مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے ہندوستان میں ایل پی جی اور ایندھن کی سپلائی کو بری طرح متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں گیس سلنڈروں کی قلت کی خبریں آرہی ہیں۔ اس دوران اترپردیش میں کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ کی وجہ سے ریاست میں کئی ہوٹل اور ریسٹورنٹ بند ہونے کی دہلیز پر پہنچ گئے ہیں۔
خبروں کے مطابق اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے امین آباد میں ایک مشہور ریسٹورنٹ کے مالک نے بتایا کہ اگر سلنڈر کی سپلائی بحال نہیں ہوئی تو اگلے 2-3 دنوں میں ریسٹورنٹ چلانا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ تہواروں کے موسم میں روزانہ 2-3 سلنڈروں کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔
اسی طرح وارانسی میں ایک ریسٹورنٹ کے مالک اور آگرہ میں ہوٹل کے مالک نے بھی محدود اسٹاک کی وجہ سے کاروبار کے متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کچھ کاروباری عارضی طور پر اپنے کچن بند کرنے پرغور کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں لکھنؤ میں ایک ایل پی جی ڈسٹری بیوٹر نے کہا کہ موجودہ اسٹاک ختم ہونے کے بعد اصل چیلنج سامنے آئے گا۔
ہندوستان کی ایل پی جی کی زیادہ تر طلب کا انحصار درآمدات پر منحصر ہے جس میں 80 فیصد سے زیادہ سپلائی آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری ایران- امریکہ- اسرائیل جنگ نے اس اہم راستے پر جہاز رانی کو عملی طور پر روک دیا ہے، جس سے مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اتر پردیش ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے سابق صدر ڈی پی سنگھ نے کہا کہ فی الحال رجسٹرڈ صارفین کو سلنڈر محدود اسٹاک سے دستیاب کرائے جا رہے ہیں۔ ضروری خدمات، جیسے اسپتال اور دیگر ضروری کاروبار کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے بھی واضح کیا کہ گھریلو ایل پی جی کی سپلائی گھروں کے لیے ترجیحی بنیاد پر جاری رہے گی۔