Jadid Khabar

کسانوں کا جوکھم کم کرنے، آمدنی بڑھانے کے لیے کی گئی پہل کے نتائج نظر آرہے ہیں: مودی

Thumb

نئی دہلی،  6 مارچ (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ ان کی حکومت نے کسانوں کا جوکھم کم کرنے اور ان کی آمدنی بڑھانے کے لیے جو پہل کی ہیں ان کے نتائج نظرآ رہے ہیں۔
مسٹر مودی نے بجٹ کے بعد قومی ویبینار کے سلسلے میں جمعہ کو تیسرے ویبینار کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 10 کروڑ کسانوں کو چار لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی پی ایم کسان سمان ندھی ملی ہے۔ دن بھر کے اس ویبینار کا موضوع 'زراعت اور دیہی علاقوں' میں تبدیلی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) میں کی گئی اصلاحات سے اب کسانوں کو ان کی پیداوار پر ڈیڑھ گنا تک منافع مل رہا ہے۔ کسانوں کو اب تین چوتھائی قرض ادارہ جاتی شعبے سے مل رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ "ادارہ جاتی کریڈٹ کوریج 75 فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔" انہوں نے بتایا کہ پی ایم فصل بیمہ یوجنا کے تحت تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے کے دعوؤں کا نپٹارہ کیا گیا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ "ایسی کئی کوششوں سے کسانوں کا جوکھم بہت کم ہوا ہے اور انہیں ایک بنیادی معاشی تحفظ ملا ہے۔ ہم فصلوں کے تنوع پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ خوردنی تیل اور دالوں پر قومی مشن اور قدرتی کھیتی پر قومی مشن، دونوں ہی زرعی شعبے کو مضبوط کر رہے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ترقی کو مزید آگے لے جانے کے لیے ہمیں سائنسی انتظام پر توجہ دینی ہوگی۔ مسٹر مودی نے کہا کہ مویشیوں کی صحت بھی ایک اہم معاملہ ہے۔ ہندوستان اب ویکسین کی تیاری میں خود کفیل ہو چکا ہے۔ جانوروں کو کھر پکا۔ منہ پکا (فٹ اینڈ ماؤتھ) کی بیماری سے بچانے کے لیے اب تک 125 کروڑ سے زیادہ ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی کی صدی ہے اور حکومت کا پورا زور زرعی شعبے میں ٹیکنالوجی کی ثقافت لانے پر بھی ہے۔ وزیر اعظم نے ویبینار میں شامل افراد سے ہندوستانی زراعت کے مستقبل کے بارے میں سوچنے اور منصوبوں پر عمل درآمد کو موثر بنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ "آج دنیا صحت کے حوالے سے زیادہ محتاط ہے۔ مجموعی صحت اور اس میں آرگینک غذا کے بارے میں بہت دلچسپی لی جا رہی ہے۔ ہندوستان میں ہمیں کیمیکل سے پاک کھیتی پر زور دینا ہی ہوگا، قدرتی کھیتی پر زور دینا ہوگا۔" انہوں نے مزید کہا کہ قدرتی کھیتی سے کیمیکل سے پاک مصنوعات تیار کر کے عالمی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے ہمارے لیے ایک شاہراہ بن جاتی ہے۔ اس کے لیے سرٹیفیکیشن اور لیبارٹری کے انتظامات کے بارے میں حکومت غور کر رہی ہے۔