نئی دہلی، 24 فروری (یو این آئی) کانگریس صدر ملیکارجن کھرگے نے بھارت منڈپم میں احتجاج کرنے کے الزام میں یوتھ کانگریس کے کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی پر سیدھا حملہ کیا اور کہا کہ کانگریس اور اس کے کارکنان نہیں بلکہ مسٹر مودی خود ڈرپوک ہیں، جو پارلیمنٹ کی کارروائی میں حصہ لینے سے بھی ڈرتے ہیں۔
کانگریس صدر نے وزیر اعظم پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کر کے کسانوں کو نقصان پہنچایا ہے اور جب یوتھ کانگریس کے کارکنان اس کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو انہیں ڈرانے کے لیے گرفتار کر لیا جاتا ہے لیکن کانگریس ڈرنے والی نہیں ہے۔
مسٹر کھڑگے نے سوشل میڈیا پر کہا، "آج نوجوان نوکریوں کے لیے ترس رہے ہیں اور ملک کا ماحول اس قدر بگڑ چکا ہے کہ مودی جی کے خلاف لوگوں میں شدید غصہ ہے۔ مسٹر مسٹر ٹرمپ کے سامنے انہوں گھٹنے ٹیک دئے۔ ناک رگڑ کر ان کی تمام شرائط مان لیں، جس کی وجہ سے پورا ملک شرمندہ ہوا۔ جو کام ہمارے کسانوں کی بھلائی اور مدد کے لیے کیا جانا چاہیے تھا، اس کے بجائے کسانوں کو نقصان پہنچانے کی بات چیت کی گئی۔ اس سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ لوگ سمجھتے تھے کہ مودی جی ملک کے مفاد میں ٹرمپ سے بات کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں ٹرمپ ہمیں غلام بنا رہا ہے اور ہمیں بندھوا مزدور بنانے کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ یہ کام مودی جی کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا، "کانگریس ڈرنے والی نہیں ہے اور نہ ہی بزدل ہے۔ مودی صاحب خود ڈرپوک ہیں، خوف کی وجہ سے وہ پارلیمنٹ میں آکر اپنی پالیسیوں کا دفاع بھی نہیں کر پاتے۔ اسی لیے وہ ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمارے نوجوانوں کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمارے نوجوان لیڈروں کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ نہیں چلے گا۔ میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ ہم ملک میں جمہوریت اور آئین حفاظت کے لیے جو بھی قربانیاں دینی پڑے، دیں گے۔ ہم لڑتے رہیں گے اور ملک کو گروی رکھنے والوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔