نئی دہلی، 16فروری (جدید خبر)آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (رجسٹرڈ)کے جنرل باڈی اجلاس میں ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت کی سیاست کا نوٹس لیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر جلد اس پر قابو نہیں پایا گیا تو یہ ملک کو تباہ کردے گی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ آسام اور اتراکھنڈ کے وزراء اعلیٰ کھلے عام ملک کے دستور اور اقلیتی حقوق کو چیلنج کررہے ہیں، لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔دیگر قرارددادوں میں اوقاف، ایس آئی آر، اسرائیلی غنڈہ گردی کی مذمت، بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج کا خیرمقدم اور وندے ماترم سے متعلق قرار دادیں پاس کی گئیں۔جنرل باڈی اجلاس کی صدارت مشاورت کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں نے کی۔ اس میٹنگ میں کارگزر صدر پروفیسر محمدسلیمان، نائب صدر مفتی عطاء الرحمن قاسمی، جنرل سیکریٹری معصوم مرادآبادی، کارگزار جنرل سیکریٹری سید تحسین احمد، خزانچی شمس الضحیٰ کے علاوہ اراکین میں فیروز خاں غازی ایڈووکیٹ، ابرار احمد مکی اور عبید اقبال عاصم نے شرکت کی۔کئی ممبران نے زوم کے ذریعہ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر ایس آئی آر سے متعلق پاس کی گئی قراردادمیں کہا گیا ہے کہ ایک عرصے سے ملک میں مسلمانوں کے نام ووٹر رجسٹروں سے حذف کرنے کی سازش چل رہی ہے۔ این آرسی اور سی اے اے کے ذریعہ مسلمانوں کی شہریت چھیننے کی سازش ناکام ہونے کے بعد مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن نے”خصوصی نظر ثانی مہم“ (ایس آئی آر) کا سہارا لے کر پورے ملک میں یہ کام شروع کردیا ہے جس کا پردہ کئی جگہوں پر فاش ہوچکا ہے، لیکن اس کے باوجود حقیقی ووٹروں کے نام کاٹے جارہے ہیں اور بوگس ووٹروں کا اضافہ کیا جارہا ہے۔ مشاورت اس خطرناک عمل کے خلاف آواز بلند کرتی ہے کیونکہ اس طرح آسام کے”ڈی ووٹر“ جیسا مسئلہ پورے ملک میں پیدا ہورہا ہے جو بالآخر کروڑوں لوگوں کو ان کی شہریت سے محروم کردے گا۔ اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے سیاسی اور قانونی کاروائی کے لیے مقتدر اداروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو متوجہ کیا گیا ہے۔وندے ماترم سے متعلق قرار دار میں کہا گیا ہے کہ اس کے تمام قطعوں کو لازمی قرار دیا جانا مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے کیونکہ ان میں زمین کو دیوتا کہا گیا ہے۔
جبکہ مسلمانوں کے نزدیک دیوتا صرف خدائے واحد ہے۔ اس لیے مشاورت مطالبہ کرتی ہے کہ اس فیصلے کو واپس لے کر مسلمانوں کی بے چینی دور کی جائے۔ اوقاف سے متعلق قانون سازی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے مسلم تنظیموں کی مرضی کے خلاف نیا وقف قانون بنایا ہے۔ وقف قانون میں تبدیلی اور محدود مقررہ وقت کے اندر پورٹل پر اندراج دراصل وقف املاک میں خردبرد کی راہ ہموار کرتی ہے۔ مشاورت ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے سابقہ قانون کو واپس لانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ ایک قرار داد میں یوجی سی ریگولیشنز کی تائید کی گئی ہے جس کا مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سماجی انصاف کا قیام اور ذات پات پر مبنی تفرقہ پرستی پر روک لگانا ہے۔
بین الاقوامی امور سے متعلق قراردادوں میں فلسطینیوں پر اسرائیل کے وحشیانہ مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دنیا کے ممالک اور خود ہمارا ملک ظالم اسرائیل کی مدد بندکریں اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے ذمہ دار سیاست دانوں اور فوجی حکام کو قرار واقعی سزا دلوائیں، ورنہ عالمی نظام ٹوٹ جائے گا اور طاقتور ملک اپنی من مانی کرنے لگے گا۔ بنگلہ دیش سے متعلق قرار داد میں وہاں کے منصفانہ انتخابات کا خیرمقدم کرتے ہوئے ہند۔بنگلہ دیش تعلقات کی بہتری کی امیدکی گئی ہے۔