Jadid Khabar

ہند-امریکہ معاہدے سے کپاس کے کسانوں کو ہوگا بڑا نقصان: کانگریس

Thumb

نئی دہلی، 16 فروری (یو این آئی)  کانگریس نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان حال ہی میں ہوئے تجارتی معاہدے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ مودی حکومت نے ملک کے کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے یہ معاہدہ کیا ہے، جس سے خاص طور پر کپاس کے کسانوں کو بڑے نقصان کا خدشہ ہے۔
کانگریس جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا نے پیر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس معاہدے سے ملک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر سنگین اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے ٹیکسٹائل کے شعبے کو 'کھربوں روپے' تک کا معاشی نقصان ہوسکتا ہے، جس سے کسانوں سے لے کر برآمد کنندگان تک پوری زنجیر متاثر ہوگی۔ مسٹر سرجے والا کے مطابق، اگر امریکی کپاس اور متعلقہ زرعی مصنوعات کی درآمدات ڈیوٹی فری یا کم ڈیوٹی پر بڑھتی ہیں، تو اس سے ہندوستانی بازار میں خام مال کی قیمتوں پر دباؤ پڑے گا۔ امریکہ اپنے کسانوں کو بڑی سبسڈی دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کی کپاس نسبتاً سستی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں ہندوستانی کپاس پروڈیوسروں کی جننگ یونٹس یعنی کپاس سے ریشوں کو بیج الگ کرنے والی یونٹوں اور اسپننگ ملوں  یعنی کتائی ملیں جہاں کپاس کے ریشوں سے کتائی کرکے سوت تیار کرنے والی ملوں کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر امریکہ کے ساتھ بنگلہ دیش جیسے ممالک کے تجارتی انتظامات مزید مضبوط ہوتے ہیں، تو ہندوستانی ملبوسات کی برآمدات کو اضافی مسابقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ مہاراشٹر، گجرات، تلنگانہ، مدھیہ پردیش، راجستھان، ہریانہ، پنجاب، آندھرا پردیش اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں کپاس کی پیداوار بڑے پیمانے پر ہوتی ہے اور ان کی دیہی معیشت ٹیکسٹائل کی صنعت سے گہرائی جڑی ہوئی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ درآمدات میں کسی بھی بڑے دھچکے سے ان ریاستوں میں کسانوں اور چھوٹی صنعتوں کی آمدنی پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔
مسٹر سرجے والا نے کہا کہ ماہرین بتاتے ہیں کہ غیر ملکی زرعی مصنوعات کی درآمد اور اس میں اضافے سے مقامی قیمتوں میں گراوٹ آنا فطری ہے اور اس سے برآمدی مسابقت کمزور ہوتی ہے۔ اس سے کسانوں اور مل مالکان کو کھربوں روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ امریکہ کے ساتھ اس معاہدے سے کسانوں کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے، مسٹر سرجے والا نے کہا کہ یہ معاملہ اعداد و شمار کا نہیں بلکہ ملک کے کسانوں کے مفاد کا ہے جسے نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسانوں کے لیے ایم ایس پی  کا اعلان تو کرتی ہے لیکن فراہم نہیں کرتی۔
یو این آئی۔ این یو۔