Jadid Khabar

اکھلیش یادو کا شنکراچاریہ معاملے پر حملہ، کہا 'الفاظ سچائی کو ظاہر کرتے ہیں'

Thumb

لکھنؤ، 14 فروری (یو این آئی) اتر پردیش کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے شنکراچاریہ پر کیئے گئے مبینہ تبصرے کے سلسلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا، کوئی جیسے بھی چولے پہن لے مگر اس کی زبان اس کی حقیقت کھول دیتی ہے۔ 


اکھلیش کے مطابق شنکراچاریہ جی کے بارے میں توہین آمیز الفاظ کا استعمال لفظی تشدد ہے اور یہ گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ 


اکھلیش یادو نے اپنے ایکس ہینڈل پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات دینے والے کے ساتھ ساتھ ایوان میں میز تھپتھپا کر حمایت کرنے والے بھی اخلاقی طور پر ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب بی جے پی کے ارکانِ اسمبلی عوام کے درمیان جائیں گے تو انہیں جواب دینا پڑے گا، عوام سڑک پر ہی ان کا ایوان لگا دے گی۔ 


سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے مہاکمبھ سے جڑے مسائل کو بھی اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ اموات کے صحیح اعداد و شمار عوام کے سامنے نہیں لائے گئے اور معاوضے کی تقسیم میں شفافیت نہیں برتی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ جن متاثرین تک معاوضہ نہیں پہنچا وہ رقم کہاں گئی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جن پر خود مقدمات رہے ہوں انہیں دوسروں کے دھرم پد پر سوال اٹھانے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ 


انہوں نے قانون کا راج اور وِدھی کا راج جیسے الفاظ کے استعمال پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ کیا الفاظ درست کرنے کے لیے دوبارہ ایوان بلایا جائے گا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ جب انسان کی جگہ انا بولنے لگتی ہے تو سنسکار بگاڑ میں بدل جاتے ہیں اور معاشرے میں احترام کم ہو جاتا ہے۔ 


انہوں نے الزام لگایا کہ مذہب اور سماج سے جڑے موضوعات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ شنکراچاریہ پر دیا گیا نامناسب بیان ایوان کی کارروائی میں درج ہو چکا ہے اور وہ اسے قابلِ مذمت سمجھتے ہیں۔