نے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو ایوان میں بولنے کی اجازت نہ دینے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملک کے ایک جنرل کی لکھی کتاب کے متعلق پورا ملک جانتا ہے کہ اس میں کیا لکھا ہے؟ پھر اسے پڑھنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ اس سے خود حکومت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘
سماجوادی پارٹی کے لیڈر نے سوال اٹھایا کہ جب ہر کوئی اس کتاب کی بات کر رہا ہے تو اسے روکنے کا مطلب کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جب وہ کتاب بازار میں آئے گی تو ان کی لاکھوں کاپیاں فروخت ہوں گی اور لوگ خود سچائی جان پائیں گے۔ کسی کتاب کو روکنے سے سچائی نہیں چھپائی جا سکتی اور اس سے حکومت پر ہی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ رام گوپال یادو جمعرات (5 فروری) کو آگرہ پہنچے تھے، جہاں انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں مرکزی حکومت کے رویے پر سوال اٹھایا تھا۔ انہوں نے چین کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’روزانہ چین ہندوستانی سرحد میں دراندازی کر رہا ہے، لیکن حکومت اس پر ایک لفظ نہیں بولتی ہے۔ ہزاروں مربع میل زمین پر چین کا قبضہ ہو چکا ہے، پھر بھی حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس جواب سامنے نہیں آتا۔‘‘
امریکہ-ہندوستان تجارتی معاہدہ کے متعلق بھی راجیہ سبھا رکن نے مرکزی حکومت پر شدید حملہ بولا تھا۔ کسانوں کی آمدنی کے معاملے پر انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ سے آنے والے سامان پر 0 فیصد ٹیکس اور ہندوستان سے بھیجے جانے والے سامان پر 18 فیصد ٹیکس لگتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ وہاں زمین زیادہ ہے اور آبادی کم ہے، اس لیے وہاں کا گیہوں ہندوستان سے آدھی قیمت پر فروخت ہوگا، جس سے یہاں کے کسان تباہ ہوں گے۔ انہوں نے طنز کستے ہوئے کہا کہ حکومت کسانوں کی آمدنی دگنی کرنے کی بات کر رہی تھی، لیکن حقیقت میں کسانوں کو مزدور بنایا جا رہا ہے۔ اس معاہدہ سے ملک کے کسانوں کو نقصان ہوگا۔