کیف، 5 فروری (یو این آئی) یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے فرانس 2 ٹی وی کو بتایا ہے کہ محاذِ جنگ میں ہلاک ہونے والے یوکرینی فوجیوں کی تعداد کا اندازہ 55,000 کےآس پاس ہے۔
زیلنسکی نے بدھ کو نشر ہونے والے پری ریکارڈ شدہ انٹرویو میں کہا کہ یوکرین میں باضابطہ طور پر محاذِ جنگ میں ہلاک ہونے والے پیشہ ور یا اجرتی فوجیوں کی تعداد 55,000 ہے۔
یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا ہے جب سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کے ایک مطالعے کے مطابق، جنگ میں تقریباً دو ملین فوجی ہلاک، زخمی یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق روس کی جنگ کے نتیجے میں تقریباً 1.2 ملین روسی زخمی یا ہلاک ہوئے جبکہ یوکرینی نقصانات 500,000 سے 600,000 کے درمیان بتائے گئے ہیں۔
سی ایس آئی ایس نے اندازہ لگایا ہے کہ جنگ کے آغاز کے تقریباً چار سال کے دوران روسی افواج کو اتنی ہی تعداد میں یعنی 325,000 تک کا جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔
دفترِ عالی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ صرف 2025 کے دوران 2,500 سے زائد شہری ہلاک اور 12,000 سے زائد زخمی ہوئے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ حقیقی اعداد و شمار ممکنہ طور پر اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔
کئی رپورٹس نے پورے یوکرین میں وسیع پیمانے پر تباہی کی دستاویزات فراہم کی ہیں جن میں شہر ملبے میں تبدیل ہوگئے، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بارہا نشانہ بنایا گیا اور لاکھوں لوگ بے دخل ہوئے جبکہ رہائشی علاقوں، نقل و حمل کے نیٹ ورکس، اور صنعتی سہولیات کے بڑے حصے نقصان زدہ یا تباہ ہو چکے ہیں جس نے یوکرین کی معیشت اور تعمیرِ نو کی کوششوں کےلیے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں۔