احمد آباد کے موٹیرا واقع آسارام کے آشرم کی تقریباً 45 ہزار مربع میٹر اراضی پر طویل عرصہ سے جاری تنازعہ اب فیصلہ کن مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔ گجرات ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو اس زمین کا قبضہ واپس لینے کی اجازت دے دی ہے۔ کورٹ کے اس فیصلے کے بعد انتظامیہ نے آشرم کیمپس میں موجود غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ خبر کے مطابق اس زمین کا استعمال دولت مشترکہ کھیل 2030 کی تیاریوں کے تحت وسیع اسپورٹس کمپلیکس کے لیے کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق موٹیرا میں آشرم کے احاطے میں تقریباً 32 غیر قانونی یونٹ قائم کی گئی تھیں۔ تحقیقات کے دوران انتظامیہ کو پتہ چلا کہ یہ یونٹیں تجارتی سرگرمیوں اور غیرمجاز تعمیرات کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔ سرکاری اراضی پر خلاف ورزی اور تجاوزات کے الزامات کی وجہ سے کلکٹر آفس کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ اس کے بعد آشرم ٹرسٹ نے ان تعمیرات کو قانونی شکل دینے کے لیے امپیکٹ فیس کے لیے درخواست دی لیکن حکام نے اسے مسترد کر دیا اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔
گجرات ہائی کورٹ کی جسٹس ویبھوی ناناوتی نے اس معاملے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ریاستی حکومت کو زمین واپس لینے کی اجازت دی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ترقیاتی منصوبے کی ضرورت اور قواعد کی خلاف ورزیوں کے پیش نظر حکومتی کارروائی صحیح ہے۔ اس فیصلے کے بعد احمد آباد میونسپل کارپوریشن (اے ایم سی) کسی بھی وقت ناجائز تعمیرات ہٹانے کے لیےانہدامی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس زمین کو سردار پٹیل اسپورٹس انکلیو کی توسیع اور ایک جدید ترین اسپورٹس کمپلیکس اور اولمپک ولیج کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
عدالت کا یہ فیصلہ ریاستی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اہم مانا جا رہا ہے۔ افسران کا خیال ہے کہ 2030 دولت مشترکہ کھیلوں کی میزبانی کے لیے شہر میں عالمی معیار کی کھیل سہولیات کی تعمیر ضروری ہے۔ ایسے حالات میں یہ زمین تزویراتی لحاظ سے اہم مانی جارہی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر سے نہ صرف کھیلوں کے ٹیلنٹ کو بہتر سہولیات حاصل ہوں گی بلکہ شہر کے انفراسٹرکچر اور سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔