افغانستان کے مختلف صوبوں میں شدید برف باری اور موسلا دھار بارش کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں کم از کم 11 افراد کی موت واقع ہو گئی جبکہ تین دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان نے جمعرات کو بتایا کہ خراب موسم کے سبب انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ املاک اور مویشیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مشرقی پروان، وردک، جنوبی قندھار، شمالی جوزجان، فاریاب اور وسطی بامیان صوبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں بدھ کے روز سے مسلسل بارش اور برف باری جاری ہے، جس کی وجہ سے روزمرہ زندگی بری طرح مفلوج ہو گئی ہے۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جہاں رسائی کے محدود ذرائع پہلے ہی مسائل پیدا کرتے ہیں۔
تیز آندھی اور بھاری برف باری کے نتیجے میں کم از کم نو مکانات جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ 530 مویشی ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ زرعی بنیادوں پر قائم ان علاقوں میں مویشیوں کی ہلاکت سے مقامی آبادی کی روزی روٹی کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ کئی خاندان سرد موسم میں خوراک اور ایندھن کی کمی کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔
برف جمنے کے باعث متعدد اہم شاہراہیں بند ہو چکی ہیں، جس سے متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان پہنچانے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سڑکوں کو کھولنے اور رابطہ بحال کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے تاکہ امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا سکے۔
افغانستان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں بھی ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور برف باری کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ اس تناظر میں انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسی دوران ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان سے افغان مہاجرین کی بے دخلی کے باعث افغانستان میں شدید انسانی بحران پیدا ہو رہا ہے، خاص طور پر سردیوں کے موسم میں۔ تنظیم کے مطابق بے دخل کیے گئے کئی افراد عارضی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں مناسب رہائش، صحت کی سہولیات، صاف پانی اور خوراک کی شدید کمی ہے۔ ماہرین نے انتباہ کیا ہے کہ اگر فوری امداد فراہم نہ کی گئی تو سرد موسم کمزور طبقات کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔