برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے انتخابی نتائج کے بعد ممبئی کی سیاست میں زبردست رسہ کشی شروع ہو گئی ہے۔ اقتدار کی اس لڑائی کے درمیان مہاراشٹرا کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ایک بڑا اور سخت فیصلہ کیا ہے۔ شندے دھڑے کی شیوسینا نے اپنے تمام نومنتخب کونسلروں کو باندرا کے ’تاج لینڈس اینڈ ہوٹل‘ میں اکٹھا ہونے کا حکم دیا ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ نے شندے دھڑے کی شیوسینا کے ذرائع کے حوالے سے ایک خبر شائع کی ہے۔ اس کے مطابق پارٹی کے تمام نومنتخب کونسلروں کو ہفتہ (17 جنوری) کو 3 بجے تک ہوٹل پہنچنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہیں آئندہ 3 دنوں تک ہوٹل میں ہی ٹھہرایا جائے گا، تاکہ کسی بھی طرح کی ’ہارس ٹریڈنگ‘ یا ٹوٹ کی کوشش کو ناکام کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ بی ایم سی انتخاب میں شندے دھڑے کی شیوسینا نے 29 سیٹوں پر جیت حاصل کی ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق بی جے پی اپنے دم پر بی ایم سی اکثریت کا ہندسہ حاصل نہیں کر پائی ہے۔ ایسے میں شندے دھڑے کا کردار فیصلہ کن ہو گیا ہے اور اسے اب اقتدار کی کنجی سمجھا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ بی جے پی کے لیے بی ایم سی میں حکومت بنانا شندے کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شندے کوئی بھی خطرہ مول لینا نہیں چاہتے۔
ایکناتھ شندے خود پورے حالات نظر بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جب تک بی ایم سی میں اقتدار کا رسمی دعویٰ نہیں ہو جاتا، تب تک کونسلروں کو متحد رکھنا بے حد ضروری ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت تمام کونسلروں کو 5 اسٹار ہوٹل میں ٹھہرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شندے دھڑے کی شیوسینا کو خطرہ ہے کہ اپوزیشن پارٹی یا دوسرے سیاسی کھلاڑی ان کے کونسلروں کو توڑنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس سے اقتدار کی مساوات بگڑ سکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس پورے واقعہ پر کانگریس کے راجیہ سبھا رکن نصیر حسین نے ایکناتھ شندے کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے طنز کستے ہوئے کہا کہ ’’انہیں کس سے ڈر ہے؟ کون ان کے کونسلروں کو توڑ سکتا ہے؟ اور کسے کونسلروں کو توڑنے کا سب سے زیادہ تجربہ ہے، یہ سب جانتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’’بی جے پی ہمیشہ اپنے اتحادیوں اور ٹوٹے ہوئے دھڑوں کی قیمت پر بڑھی ہے۔‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مہاراشٹر اور بہار میں کس پارٹی کا اسٹرائک ریٹ سب سے زیادہ رہا ہے۔ کانگریس لیڈر کے مطابق ایکناتھ شندے جتنا جلدی یہ سمجھ لیں اتنا ہی ان کے لے بہتر ہوگا۔
فی الحال بی ایم سی میں میئر اور اقتدار کی تشکیل سے متعلق سسپنس ہے۔ ایک طرف بی جے پی اکثریت کے لیے جوڑ توڑ میں مصروف ہے تو دوسری جانب شندے دھڑے کی شیو سینا اپنے پتّے کھولنے سے قبل مکمل طور سے محفوظ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔ آنے والے کچھ دن طے کریں گے ممبئی میں کس کا اقتدار ہوگا۔