نئی دہلی، 17 جنوری (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ایک دہائی قبل جس روہت ویمولا کی جان گئی تھی، اسی نوعیت کے سوال آج بھی زندہ ہیں اور ملک کا دلت سماج آج بھی اسی طرح کے ماحول کا شکار ہے، اس لیے ان کی لڑائی لڑتے رہنا ہماری ذمہ داری ہے۔
مسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آج روہت ویمولا کو گزرے دس برس ہو چکے ہیں، لیکن اس کا سوال آج بھی ہمارے سینے میں دھڑک رہا ہے اور یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا اس ملک میں خواب دیکھنے کا حق سب کو برابر حاصل ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ روہت پڑھنا لکھنا چاہتا تھا۔ وہ سائنس، سماج اور انسانیت کو سمجھ کر اس ملک کو بہتر بنانا چاہتا تھا، لیکن اس نظام کو ایک دلت کا آگے بڑھنا منظور نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی ملک میں ادارہ جاتی ذات پات، سماجی بائیکاٹ، روز مرہ کی بے عزتی، اوقات دکھانے والی زبان اور غیر انسانی سلوک موجود ہے اور یہی وہ زہر تھا، جس نے ایک باصلاحیت نوجوان کو اس مقام تک دھکیل دیا، جہاں اس کے عزتِ نفس کو چھین لیا گیا اور اسے تنہا کر دیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آج دلت نوجوانوں کی حقیقت تبدیلی ہوئی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ کیمپس میں وہی حقارت، ہاسٹل میں وہی علیحدگی، کلاس میں وہی کمتر سمجھنا، پھر وہی تشدد اور کبھی کبھی وہی موت۔ کیونکہ ذات آج بھی اس ملک میں سب سے بڑا ایڈمیشن فارم ہے۔ اسی لیے روہت ویمولا ایکٹ کوئی نعرہ نہیں، بلکہ ایک ضرورت ہے۔ تاکہ تعلیمی اداروں میں ذات پر مبنی امتیاز کو جرم قرار دیا جائے، قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہو اور کسی بھی طالب علم کو اس کی ذات کے نام پر توڑنے، خاموش کرانے اور باہر نکالنے کی آزادی ختم ہو۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ 'یہ لڑائی صرف پارلیمنٹ کی نہیں ہے۔ یہ لڑائی کیمپس کی ہے، نوجوانوں کی ہے، ہماری ہے۔' دلت نوجوانوں! آواز اٹھاؤ، تنظیم بناؤ اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہو۔ مطالبہ کرو کہ روہت ویمولا ایکٹ فوراً نافذ کیا جائے۔ امتیاز کے خلاف قانون ابھی چاہیے۔ کرناٹک اور تلنگانہ میں کانگریس کی حکومتیں اس قانون کو جلد از جلد نافذ کرنے کے عمل میں ہیں۔ ہم ایک ایسا ہندوستان چاہتے ہیں جو منصفانہ، انسانی اور مساوی ہو۔ جہاں کسی دلت طالب علم کو اپنے خوابوں کی قیمت اپنی جان دے کر ادا نہ کرنی پڑے۔ روہت! تمہاری لڑائی ہماری ذمہ داری ہے۔