دہلی سمیت پورے شمالی ہندوستان میں اس وقت شدید سردی اور گھنے کہرے کا راج قائم ہے، جس کے باعث عام زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ کئی ریاستوں میں صبح کے اوقات میں حدِ بصارت انتہائی کم ہو گئی ہے، جب کہ بعض علاقوں میں صورتحال اس حد تک خراب رہی کہ حدِ بصارت صفر ریکارڈ کی گئی۔ موسم کی اس شدت نے نہ صرف عوام کو گھروں میں محدود کر دیا ہے بلکہ آمدورفت کے مختلف ذرائع پر بھی اس کے منفی اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق شمالی ہندوستان میں آئندہ چند دنوں تک سردی اور کہرے کی یہی کیفیت برقرار رہنے کا امکان ہے۔ پنجاب، ہریانہ اور چند دیگر علاقوں میں کولڈ ڈے کی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے، جہاں دن کے وقت بھی درجۂ حرارت معمول سے خاصا کم رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ سرد لہر اور برفیلی ہواؤں کے اس دور نے خاص طور پر بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
قومی راجدھانی دہلی میں بھی شدید سرد لہر کے ساتھ گھنے کہرے نے لوگوں کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ صبح کے وقت حدِ بصارت کم ہونے کے سبب ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے اور کئی مسافروں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ کہرے کی وجہ سے طیاروں کی لینڈنگ اور ٹیک آف میں اضافی احتیاط برتی جا رہی ہے، جس کے باعث پروازوں کے شیڈول میں تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ روانگی سے قبل اپنی پرواز سے متعلق تازہ معلومات حاصل کر لیں۔
کہرے کے باعث سڑکوں پر بھی گاڑیوں کی رفتار سست ہو گئی ہے۔ مختلف شاہراہوں پر ڈرائیور حضرات کو حدِ بصارت کم ہونے کی وجہ سے شدید احتیاط کے ساتھ سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ ریل خدمات بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئی ہیں اور کئی ٹرینیں مقررہ وقت سے تاخیر سے چلنے کی اطلاعات ہیں، جس سے مسافروں کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
دہلی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں درجۂ حرارت میں نمایاں گراوٹ درج کی گئی ہے اور کم سے کم درجۂ حرارت 3 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا ہے۔ غازی آباد، میرٹھ اور لکھنؤ سمیت اتر پردیش کے کئی شہروں میں بھی گھنا کہرا اور سرد لہر کا سلسلہ جاری ہے، جہاں صبح کے وقت حدِ بصارت نہایت کم ریکارڈ کی گئی۔ ہریانہ کے کرنال ضلع میں بھی گھنے کہرے کے سبب سڑکوں پر ٹریفک کی رفتار متاثر رہی۔
محکمۂ موسمیات کی سیٹلائٹ تصاویر سے بھی واضح ہے کہ شمالی ہندوستان کے ساتھ ساتھ کچھ جنوبی علاقوں میں بھی کہرا اور بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق فی الحال موسم میں بہتری کے آثار کم ہیں اور عوام کو سردی اور کہرے سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔