Jadid Khabar

’پولیس پر ایف آئی آر کو چیلنج کرنا مجرموں کو بچانے کے مترادف‘، سنبھل معاملے پر ایس ٹی حسن کا بیان

Thumb

مرادآباد: سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما ایس ٹی حسن نے سنبھل میں پیش آئے تشدد کے واقعے اور پولیس افسر انوج چودھری کے خلاف درج ایف آئی آر کے معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلے کو اوپری عدالت میں چیلنج کرنا قانونی حق ضرور ہے، لیکن عملی طور پر یہ عمل مجرموں کو بچانے جیسا تاثر بھی پیدا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی مضبوط بنیاد ضرور رہی ہوگی۔
ایس ٹی حسن نے کہا کہ سنبھل تشدد کے دوران ایک نوجوان کی موت کے معاملے میں مقامی عدالت نے انوج چودھری سمیت 12 پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد سنبھل پولیس کی جانب سے اسے اوپری عدالت میں چیلنج کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا اس طرح کے اقدامات انصاف کے عمل کو کمزور نہیں کرتے اور کیا یہ مجرموں کو فائدہ پہنچانے کے مترادف نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہر عدالتی فیصلے کو مسلسل اوپری عدالتوں میں لے جایا جائے اور ایف آئی آر کے عمل کو ٹالتے رہیں تو انصاف کیسے ہوگا۔ ان کے مطابق عدالت نے شواہد اور حالات کو دیکھتے ہوئے ہی ایف آئی آر کا حکم دیا ہوگا، اب یہ عدالت میں ہی طے ہوگا کہ کون قصوروار ہے اور کون بے قصور۔ ٹرائل کے دوران حقیقت سامنے آ جائے گی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
ایس ٹی حسن نے بابا باگیشور دھیریندر شاستری کے اس بیان پر بھی تنقید کی جس میں کہا گیا تھا کہ اگر ہندوستان میں آر ایس ایس نہ ہوتی تو اتنے ہندو باقی نہ رہتے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات سماج میں خوف پیدا کرنے کے لیے دیے جا رہے ہیں اور یہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ ان کے مطابق کچھ لوگ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی طرز پر سیاست کرنے کی کوشش میں غیر ذمہ دارانہ باتیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی اصل طاقت سیکولر ہندو اور سیکولر مسلمان ہیں اور جب تک یہ لوگ ساتھ ہیں، کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ ملک کو نقصان پہنچا سکے۔ ایس ٹی حسن نے آر ایس ایس پر الزام عائد کیا کہ وہ شروع سے سماج میں نفرت پھیلانے کا کام کرتی رہی ہے۔ ان کے مطابق سردار ولبھ بھائی پٹیل نے بھی آر ایس ایس پر پابندی بلا وجہ نہیں لگائی تھی اور اس تنظیم کا آزادی کی جدوجہد میں کوئی مثبت کردار نہیں رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے نظریات اور تنظیموں پر سخت نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ ملک کی یکجہتی برقرار رہ سکے۔