امریکہ نے وینزویلا میں موجود تیل کے بڑے ذخیرہ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کو حراست میں لینے کے بعد اب وہاں کا ’کالا سونا‘ یعنی خام تیل براہ راست واشنگٹن کی نگرانی میں فروخت ہونا شروع ہو گیا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ امریکہ کی مداخلت کے ساتھ ہی اس تیل کی قیمت میں شدید اضافہ درج کیا گیا ہے۔ پہلے ہی سودے میں امریکہ نے ہزاروں کروڑ روپے کا تیل فروخت کر دیا ہے، جس سے بین الاقوامی بازار میں ہلچل بڑھ گئی ہے۔
آفیشیل رپورٹس کے مطابق امریکہ نے وینزویل کے خام تیل کی فروخت کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔ اس پہلے سودے کے تحت تقریباً 500 ملین ڈالر (تقریباً 4529 کروڑ روپے) کا تیل فروخت کیا گیا ہے۔ امریکی افسران نے تصدیق کی ہے کہ فروخت کا یہ عمل مکمل ہو چکا ہے اور آئندہ ہفتوں میں ایسے مزید سودے دیکھنے کو ملیں گے۔ ٹرمپ حکومت میں انرجی سکریٹری کرس رائٹ نے تو پہلے سودے میں ہوئے منافع پر اپنی خوشی کا اظہار بھی کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب یہی تیل مادورو کی حکومت میں فروخت ہوتا تھا تو اسے کم قیمت ملتی تھی، لیکن اب جب امریکہ اسے فروخت کر رہا ہے تو بازار میں اُسی بیرل کے لیے 30 فیصد زیادہ قیمت مل رہی ہے۔ فروختگی کا یہ عمل اس 2 ارب ڈالر کے معاہدہ کا حصہ ہے، جو حال ہی میں واشنگٹن اور کاراکس کے درمیان طے ہوا تھا۔
اس درمیان امریکی صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وینزویلا کے تیل وسائل کا استعمال اب امریکہ کی شرطوں اور نگرانی میں ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ وینزویلا اپنے 30 سے 50 ملین بیرل تیل کو امریکہ کے حوالہ کرے گا، جسے موجودہ بازار کی قیمت پر فروخت کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنا منصوبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تیل فروخت ہونے کے بعد ملنے والا یہ پیسہ براہ راست کسی حکومت کے ہاتھ میں نہیں جائے گا، بلکہ اسے وہ خود کنٹرول کریں گے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اس فنڈ کا فائدہ وینزویلا اور امریکہ دونوں کو ملے۔ مادورو کے پکڑے جانے کے بعد سے ہی امریکہ کی نظر وہاں کے تیل ذخائر کے مینجمنٹ پر مرکوز تھی۔
قابل ذکر ہے کہ وینزویلا کے پاس دنیا کا سب سے بڑا ثابت خام تیل ذخیرہ (تقریباً 303 بلین بیرل) موجود ہے، لیکن گزشتہ کچھ دہائیوں میں وہاں کے حالات بدتر ہو گئے تھے۔ خراب رکھ رکھاؤ اور سرمایہ کاری کی کمی کے سبب وہاں کی تیل صنعت چرمرا گئی تھی۔ 1990 کی دہائی میں جہاں 3.5 ملین بیرل تیل روز نکلتا تھا، وہ گھٹ کر اب محض 8 لاکھ بیرل روزانہ رہ گیا ہے۔ موجودہ حالات کو بدلنے کے لیے ٹرمپ نے ایک اہم اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بڑی تیل کمپنیاں وینزویلا کے انرجی سیکٹر کو پھر سے کھڑا کرنے کے لیے کم از کم 100 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی۔