نئی دہلی: سپریم کورٹ نے راجستھان کی جوجری ندی کے کنارے سے 100 میٹر کے دائرے میں ہر طرح کی تعمیر اور ترقیاتی سرگرمیوں پر عبوری پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ یہ پابندی اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک ندی کی سیلابی حدود اور ماحولیاتی تحفظ کے ضروری علاقے کا سائنسی طریقے سے تعین اور حد بندی نہیں کر دی جاتی۔
جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے یہ حکم جوجری سمیت راجستھان کی ندیوں میں صنعتی آلودگی سے متعلق ازخود نوٹس (سو موٹو) معاملے کی سماعت کے دوران دیا۔ عدالت نے ندی کے ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سائنسی بنیادوں پر مستقل حفاظتی حدود طے ہونے تک ایک واضح، قابل پیمائش اور عبوری حفاظتی زون ضروری ہے۔
عدالت نے ہدایت دی کہ جوجری ندی کی موجودہ سیلابی حد سے دونوں جانب 500 میٹر کے علاقے میں ایسی کسی صنعت یا سرگرمی کی اجازت نہ دی جائے جس سے ندی میں آلودگی، گندگی یا ماحول کو کسی بھی دوسرے نقصان کا خدشہ ہو۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ندی اور اس کے اطراف کے ماحولیاتی نظام کو پہلے ہی کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ اس لیے سیلابی حدود اور ضروری ماحولیاتی تحفظ کے علاقے کی سائنسی طور پر نشاندہی اور حد بندی مکمل ہونے تک عبوری انتظامات کے تحت ندی کے کنارے سے 100 میٹر کے اندر کسی بھی قسم کی تعمیر یا ترقیاتی کام کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ سیلابی حدود اور ضروری ماحولیاتی تحفظ کے علاقے کے سائنسی تعین کے دوران ندی کے ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے ایک عبوری، مقررہ اور قابل پیمائش حفاظتی علاقہ قائم کرنا ضروری ہے۔ اسی بنیاد پر 100 میٹر کے دائرے میں تمام تعمیراتی اور ترقیاتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ کے سامنے آیا جب ایک دستاویزی فلم میں راجستھان کے جودھپور، پالی اور باڑمیر اضلاع سے گزرنے والی جوجری ندی میں بڑے پیمانے پر آلودگی کی نشاندہی کی گئی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عدالت نے صنعتی آلودگی اور ندیوں کے ماحولیاتی تحفظ کا ازخود نوٹس لیا۔
نومبر 2025 میں بھی سپریم کورٹ نے جوجری، بانڈی اور لونی ندیوں کی صفائی سے متعلق نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کی 2022 کی ہدایات کو دوبارہ نافذ کیا تھا۔ عدالت نے اس مقصد کے لیے راجستھان ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس سنگیت لودھا کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی ماحولیاتی نگرانی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔