Jadid Khabar

آبنائے ہرمز بحران پر ایران کا امریکہ کو سخت پیغام، کہا ’ہم تیل کی ایک بوند بھی نہیں جانے دیں گے‘

Thumb

ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے اور فریقین کی جانب سے بیان بازیوں کا دور بھی جاری ہے۔ ایران کی ٹاپ سیکورٹی باڈی کے نئے سربراہ نے کل اتوار کے روز آگاہ کیا کہ وہ اپنے خلاف امریکہ کے نئے سخت اقتصادی اقدامات کے لیے کسی بھی ملک کی حمایت کو ’ایکٹ آف وار‘ تسلیم کرے گا۔ ساتھ ہی کہا کہ امریکہ کی پابندیاں اگر جاری رہتی ہیں تو ایران خلیج میں کہیں بھی تیل برآمد ہونے نہیں دے گا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے تعلق سے کہا جا رہا ہے کہ وہ آج پیر کے روز نئے اقدامات کا اعلان کر سکتے ہیں، کیوں کہ امریکہ نے ایک ملک کے خلاف اس سطح کی اقتصادی جنگ اور علیحدگی کا اعلان کر رکھا ہے، جو پہلے کبھی نہیں کیا گیا، کیوں کہ ایران کئی دہائیوں سے پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔

اس درمیان مذاکرات کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں اور پاکستان کے فوجی جنرل عاصم منیر کے آج ہی ایران روانہ ہونے کی امیدیں ہیں، کیوں کہ بطور ثالث مذاکرات کی دوبارہ کوششوں کی شروعات کی جا رہی ہے۔ اس دوران آبنائے ہرمز پر حملے بھلے ہی بند ہو گئے ہوں، لیکن دونوں جانب سے بیان بازیاں خوب ہو رہی ہیں۔ حال ہی میں ایک ایرانی اتھارٹی نے ایسے درجنوں بحری جہازوں کی فہرست مرتب کی ہے، جن کے تعلق سے کہا گیا ہے کہ مستقبل میں ان جہازوں کی آمد و رفت پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔ خلیج میں کشیدگی کی صورتحال برقرار ہے۔ ایران کے سیکورٹی چیف نے ایک بار پھر اپنے پڑوسیوں کو سخت وارننگ دی ہے۔
ایران کی ’سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل‘ کے سخت گیر لیڈر محسن رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (ایکس) پر اپنی تازہ ترین وارننگ جاری کی ہے اور ان کے بیان کو ایرانی سرکاری میڈیا نے فوراً شیئر کر دیا ہے۔ اسی مہینے اس عہدے پر منتخب ہونے کے بعد محسن رضائی کا یہ دوسرا بیان ہے۔ اس سے قبل ہفتے کی دیر رات ایک انٹرویو میں انہوں نے سرکاری براڈ کاسٹر سے کہا تھا کہ ’’اگر ٹرمپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ہم زبردست طریقے سے جواب دیں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران خلیج فارس سے دوسرے تیل شپنگ روٹس کو بھی نشانہ بنائے گا، جسے آبنائے ہرمز کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔ محسن رضائی نے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ایران کے خلاف امریکہ کی اقتصادی جنگ جاری رہتی ہے تو تہران آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں کہیں بھی تیل کی برآمدات پر پابندی عائد کر سکتا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ محسن رضائی پاسداران انقلاب کے کمانڈر اور سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر بھی رہ چکے ہیں
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اتوار کے روز کہا تھا کہ جون کے وسط میں ہونے والا امن معاہدہ ’نہ جنگ نہ امن‘ کی صورتحال سے آگے بڑھنے کا بہترین راستہ تھا۔ سرکاری خبررساں ایجنسی ’ارنا‘ کے ذریعہ نشر شدہ ایک تقریر میں پیزشکیان نے کہا کہ ’’اس سمجھوتے میں ایسی ایک بھی شق ایسی نہیں ہے، جس میں ہتھیار ڈالنے کا کہا گیا ہو۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’سپریم لیڈر پالیسیاں مرتب کرتے ہیں اور ہم اسی راہ پر گامزن رہیں گے۔‘‘ امریکی بحریہ کے زیر نگرانی ایک کثیر القومی اتحاد نے کل کہا کہ آبنائے ہرمز میں گزشتہ 48 گھنٹوں میں کسی تازہ حملے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور شپنگ ٹریفک بھی معمولی سطح پر جاری ہے۔ امریکی فوج نے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی وجہ سے اتوار تک 70 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کیا گیا اور 3 جہازوں کو روک دیا گیا۔
ایران کی حال ہی میں بنائی گئی خلیج فارس آبنائے اتھارٹی جو کہ امریکی پابندیوں کی زد میں ہے، نے درجنوں بحری جہازوں کی فہرست جاری کی ہے۔ جس کے مطابق انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام انتظامات کو ختم کیا ہے اور مستقبل میں ان پر جرمانہ یا ضبط کرنے جیسی پابندیاں لگائی جائیں گی۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسمائیل بقائی کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستانی فلڈ مارشل عاصم منیر آج پیر کے روز تہران پہنچ رہے ہیں۔ 2 علاقائی افسران نے بتایا کہ یہ دورہ اسلام آباد کی امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دوبارہ بات چیت کے ٹیبل پر لوٹنے کی اپیل کی ہے۔ حکام نے نام نہیں بتانے کی شرط پر بات چیت کی، کیوں کہ انہیں پبلک میں بات کرنے کا اختیار نہیں ہے۔