مدھیہ پردیش میں قبائلی طبقہ کے بچوں کی اموات معاملہ میں کانگریس نے آج مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس رکن اسمبلی وکرانت بھوریا نے ایک پریس کانفرنس میں کچھ اعداد و شمار سامنے رکھے اور الزام عائد کیا کہ مرکز کی مودی حکومت قبائلی طبقہ کو پوری طرح سے نظر انداز کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ میں نقص تغذیہ اور بیماریوں سے 22 قبائلی بچوں کی موت ہو گئی، جو بیگا سماج سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’’یہاں گزشتہ 6 ماہ سے گھر پہنچنے والا کھانا بند ہے، یہاں سب سے قریبی پرائمری ہیلتھ سنٹر 20 کلومیٹر دور ہے، یہاں ’فاریسٹ رائٹس ایکٹ‘ کے تحت ملنے والے پٹّے خارج ہو چکے ہیں، افسران نے مطلع کیا ہے کہ یہاں 80 فیصد سے کم ٹیکہ کاری ہوئی ہے۔‘‘
حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے وکرانت بھوریا کہتے ہیں کہ ’’آج مل میں قبائلی بچوں کی جان کی قیمت صرف 20 ہزار روپے ہے۔ حکومت کی طرف سے ہر کنبہ کو صرف 20 ہزار روپے دیے گئے، لیکن غلطی ان بچوں کی نہیں تھی۔ غلطی اس سسٹم کی تھی جس میں قبائلیوں کے ڈیولپمنٹ کے نام پر ہزاروں کروڑ روپے آتے ہیں، لیکن کسی کو نہیں پتہ کہ پیسا کہاں جاتا ہے؟‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’سب سے افسوسناک یہ ہے کہ ملک کی صدر اور مدھیہ پردیش کے گورنر خود قبائلی ہیں، پھر بھی مدھیہ پردیش میں نقص تغذیہ کے سبب 22 قبائلی بچوں کی موت ہو جاتی ہے۔‘‘
کانگریس رکن اسمبلی نے مدھیہ پردیش اسمبلی کے ایک اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے اسمبلی میں سوال پوچھا تھا کہ ریاست کے قبائلی بلاکوں اور پروجیکٹس میں نقص تغذیہ کے خاتمہ کے لیے 2020 سے 2025 تک کتنا بجٹ دیا گیا اور اس میں سے کتنا خرچ ہوا؟ جواب میں جو کچھ پتہ چلا، وہ بے حد فکر انگیز ہے۔ حکومت نے مطلع کیا کہ نقص تغذیہ کے شکار بچوں کو ہر دن محض 12 روپے کی مقوی غذی دی جاتی ہے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’حکومت نے بتایا کہ محکمہ برائے ترقیٔ خواتین و اطفال نے قبائلی بلاکوں میں اس منصوبہ کے لیے الگ سے کوئی بجٹ کا انتظام نہیں کیا ہے۔ بازآبادکاری مرکز، جہاں بے حد کمزور اور سنگین طور سے کمزور بچوں کو لایا جاتا ہے، وہاں ان کے علاج اور غذائیت پر صرف 980 روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔‘‘