Jadid Khabar

سپریم کورٹ نے ’پھانسی‘ کے موجودہ نظام کو ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی

Thumb

سپریم کورٹ نے سزائے موت پانے والے مجرموں کو پھانسی دینے کے موجودہ نظام کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والی مفاد عامہ کی عرضی خارج کر دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’موجودہ وقت میں سزائے موت دینے کے لیے پھانسی کے طریقۂ کار کو غیر آئینی نہیں قرار دیا جا سکتا۔‘‘ حالانکہ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مرکزی حکومت چاہے تو سزائے موت نافذ کرنے کے لیے پھانسی کے علاوہ دوسرے طریقوں پر غور کر سکتی ہے۔ اطلاع کے مطابق یہ معاملہ ایڈووکیٹ رشی ملہوترا کی جانب سے دائر کی گئی مفاد عامہ کی عرضی سے متعلق تھا۔ عرضی میں سزائے موت نافذ کرنے کے طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ کسی شخص کو پھانسی پر لٹکا کر اس کی موت تک انتظار کرنا، کیا انسانی اور باوقار طریقہ ہے۔

عرضی گزار نے مطالبہ کیا تھا کہ موت کی سزا نافذ کرنے کے لیے ایسا طریقہ اپنایا جائے، جس میں مجرم کو کم از کم جسمانی تکلیف ہو۔ معاملے کی سماعت جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے کی۔ عرضی میں سزائے موت پر عمل درآمد سے متعلق قانونی دفعات کو بھی چیلنج کیا گیا، خصوصاً اس نظام پر جس کے تحت سزائے موت پانے والے مجرم کو پھانسی دی جاتی ہے اور اسے موت تک رکھا جاتا ہے۔ عرضی گزار کی طرف سے پھانسی کے متبادل کے طور پر دیگر طریقوں پر غور کرنے کی دلیل دی گئی۔ ان میں ’لیتھل انجیکشن‘ سمیت کچھ متبادل طریقوں کا ذکر کیا گیا۔ دلیل یہ تھی کہ اگر قانون کسی شخص کو سزائے موت دیتا ہے تو اسے نافذ کرنے کا طریقہ تکلیف دہ نہیں ہونا چاہیے۔
سماعت کے دوران پروجیکٹ 39اے کی جانب سے بھی متبادل طریقوں سے متعلق پہلوؤں پر عدالت کے سامنے دلائل پیش کیے گئے۔ دوسرے ممالک میں سزائے موت نافذ کرنے کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقوں اور ان کے تجربات کا بھی ذکر کیا گیا۔ حالانکہ عدالت کے سامنے یہ بات بھی رکھی گئی کہ پھانسی کے متبادل کے طور پر تجویز کیے گئے طریقوں میں بھی کچھ عملی، طبی اور انسانی چیلنجز موجود ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمن پیش ہوئے۔ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ سزائے موت نافذ کرنے کے متبادل طریقوں کے حوالے سے ماہرین کی سطح پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں حکومت سائنسی اور طبی بنیادوں پر پھانسی کے متبادل تلاش کر سکتی ہے۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پھانسی دینے والے جلاد پر پڑنے والے ذہنی اثرات کے پہلو پر بھی توجہ دی۔ عدالت نے اس عمل سے وابستہ دیگر انسانی پہلوؤں پر بھی غور کیا۔