لکھنؤ، 14 اگست (یو این آئی) اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعہ کو کہا کہ سال 1947 میں ملک کی تقسیم انسانیت کی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک تھی اور اس سانحے سے سبق لیتے ہوئے ہر شہری کو مضبوط، محفوظ، خوشحال، آتم نربھر اور ترقی یافتہ ہندستان کی تعمیر کا عزم کرنا چاہیے۔
تقسیم کی المیے کی یاد کے دن کے موقع پر لوک بھون میں منعقدہ پروگرام میں یوگی نے کہا کہ تقسیم صرف زمین کی تقسیم نہیں تھی بلکہ لاکھوں خاندانوں کی تکلیف، نقل مکانی اور تشدد کی تاریخ تھی۔ کروڑوں لوگوں کو اپنی مادرِ وطن سے بے گھر ہونا پڑا اور بڑی تعداد میں ہندو، سکھ، بدھ اور جین سماج کے لوگوں کو تشدد اور قتل عام کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تاریخ کو صرف کتابوں اور امتحان کے نصاب تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ نئی نسل کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ تقسیم کے حالات کیوں پیدا ہوئے اور اس کی قیمت بے گناہ شہریوں کو کیوں چکانی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان میں طاقت، دانش اور دولت کی کبھی کمی نہیں رہی، لیکن اندرونی تقسیم اور باہمی اختلافات نے ملک کو کمزور کیا۔ ذات، زبان اور خطے کی شناخت اپنی جگہ ہوسکتی ہے، لیکن سب سے بڑی شناخت ہندستانی ہونے کی ہونی چاہیے۔
یوگی نے شہریت ترمیمی قانون کے بارے میں اپوزیشن پر غلط فہمیاں پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت مذہبی ظلم و ستم کے باعث پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہندستان آنے والی اقلیتی برادریوں کو شہریت دینے کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں قانون کی مخالفت کے نام پر بدامنی پھیلانے کی کوششیں کی گئیں، لیکن مضبوط نظم و نسق کی وجہ سے صورت حال کو قابو سے باہر نہیں ہونے دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پیلی بھیت اور لکھیم پور کھیری میں بے گھر خاندانوں کی دستاویزات درست کرکے انہیں شہریت اور زمین سے متعلق کاغذات فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کانگریس پر دشمن املاک کے معاملے میں بے گھر افراد کے مفادات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔ ۔