Jadid Khabar

’چین کو امریکی ٹیرف سے بچنے میں ہندوستان سمیت 40 ممالک کر رہے مدد‘، امریکہ کا سنگین الزام

Thumb

امریکہ کی ڈونالڈ ٹرمپ حکومت نے ہندوستان، کناڈا اور یورپی یونین سمیت امریکہ کے 40 سے زیادہ تجارتی شراکت داروں کی نشاندہی کی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ایک ’شیڈو ٹرانس شپمنٹ نیٹورک‘ یعنی غیر قانونی مال برداری نیٹورک چلا کر چین کو ’امریکی ٹیرف‘ سے بچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ٹرمپ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ امریکہ نے ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کا پتہ لگانے اور ان پر جرمانہ عائد کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

’دی گریٹ ٹرانس شپمنٹ اسکیم‘ کے نام سے وائٹ ہاؤس کی رپورٹ میں ’غیر قانونی ٹرانس شپمنٹ‘ سے متعلق طویل عرصے سے جاری تشویش پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے بھاری ٹیرف سے بچنے کے لیے سامان کو کسی ایسے تیسرے ملک کے راستے بھیجا جا سکتا ہے، جہاں امریکہ کا ٹیرف کم ہو۔ رپورٹ میں جن دیگر ممالک کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں تائیوان، میکسیکو، جاپان، جنوبی کوریا اور ویتنام شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ کے چیف تجارتی مشیر پیٹر نوارو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2018 کے بعد ٹرانس شپمنٹ (ایک ملک سے دوسرے ملک کے راستے سامان بھیجنا) میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ اس وقت ہوا جب ٹرمپ انتظامیہ نے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا مقابلہ کرنے کے لیے چین پر سیکشن 301 کے تحت ٹیرف عائد کیے۔ نوارو نے صحافیوں سے کہا کہ ’’سالوں سے اس بڑے ٹرانس شپمنٹ گھوٹالے کی وجہ سے کمیونسٹ چین 40 سے زیادہ ممالک کے ذریعے اپنی برآمدات دوسرے ممالک میں بھیج کر انہیں اپنا مال ظاہر کر کے فروخت کرتا رہا ہے۔‘‘
رپورٹ میں 40 سے زیادہ ایسے ممالک کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں غیر قانونی ٹرانس شپمنٹ کا خطرہ زیادہ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کچھ معیشتوں کے لیے ٹرانس شپمنٹ کا خطرہ بڑے پیمانے پر ہونے والی قانونی تجارت کا ہی ایک حصہ بن گیا ہے۔ کچھ دیگر ممالک چین سے وابستہ سپلائی چین سے زیادہ جڑے ہوئے پائے گئے۔ وہیں، تیسرے گروپ کو امریکہ تک خصوصی رسائی جیسے فوائد حاصل تھے، جو انہیں سامان کا راستہ تبدیل کرنے کے لیے پرکشش اور آسان ہدف بناتے ہیں۔
نوارو نے رپورٹ میں کہا کہ ’’چین نے ان تیسرے ممالک کا استعمال معمولی پروسیسنگ، دوبارہ لیبل لگانے، دوبارہ پیکیجنگ، دوبارہ انوائسنگ یا راستے میں تبدیلی کے لیے کرنا شروع کر دیا، جس سے ایسا لگتا تھا کہ سامان کسی نئے ملک کا ہے، جبکہ حقیقت میں اس میں چینی مواد ویسا ہی برقرار رہتا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیرف سے بچنے کے لیے چین اور حکومت کی مدد یافتہ اس کی مینوفیکچرنگ اور تجارتی کمپنیاں ایسے علاقوں میں سامان بھیج سکتی ہیں جہاں سستی مزدوری ہو، کسٹمز کی نگرانی کم ہو، فری زون میں نرمی ہو یا جنہیں امریکہ کے ساتھ تجارت میں خصوصی سہولیات حاصل ہوں۔
نوارو کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے ساتھ مل کر اے آئی پر مبنی ’ڈیٹیکٹو‘ بارڈر سسٹم پر کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد یہ پتہ لگانا ہے کہ آیا کسی شپمنٹ میں ٹرانس شپ شدہ سامان (ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا سامان) شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ نظام شپمنٹ کے ڈاٹا، روٹنگ ہسٹری اور دیگر ٹولز جیسی معلومات کا استعمال کرے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت کے دوران، جب 2018 کے آس پاس واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ٹیرف جنگ جاری تھی، اسی وقت سے چین سے ’سپلائی چین‘ کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ ماہرین اقتصادیات نے بتایا کہ جب کمپنیوں نے اپنی ’سپلائی چین‘ کو مختلف مقامات پر پھیلایا تو ویتنام جیسے ممالک کو اس کا فائدہ ہوا۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کیے ہیں، جس سے چینی سامان پر پہلے سے عائد ٹیرف کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔