Jadid Khabar

ایران میں آیا طاقتور زلزلہ، ریکٹر اسکیل پر شدت 5.5 ریکارڈ، عوام میں خوف کی لہر

Thumb

مغربی ایران میں 20 جولائی کو 5.5 شدت کے زلزلے نے عوام میں خوف و دہشت پیدا کر دی۔ یورپی- میڈیٹیرینین سسمولوجیکل سینٹر (ای ایم ایس سی) کے مطابق زلزلہ کا مرکز زمین سے تقریباً 10 کلو میٹر کی گہرائی میں اور کہریز شہر سے تقریباً 54 کلو میٹر مغرب میں واقع تھا۔ کہریز شہر کی آبادی تقریباً 7.66 لاکھ ہے۔ اس کے علاوہ زلزلے کا مرکز جاونرود شہر سے تقریباً 33 کلو میٹر جنوب میں واقع تھا، جہاں تقریباً 38600 افراد رہتے ہیں۔

زلزلہ کے جھٹکے شدید تھے، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ بعد فی الحال کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ افسران کی جانب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ مغربی ایران زلزلے کے اعتبار سے حساس علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہاں اکثر و بیشتر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔ حالیہ زلزلوں کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ دعوے کیے گئے ہیں کہ زلزلے کا تعلق ایران کے جوہری پروگرام یا زیر زمین سرگرمیوں سے ہوسکتا ہے۔ حالانکہ بین الاقوامی زلزلے کی نگرانی کرنے والی ایجنسیوں اور ماہرین نے ایسے دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ بیشتر ریکارڈ شدہ واقعات کو قدرتی زلزلہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
قابل غور ہے کہ ایران دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے۔ دراصل ایران کئی ’ایکٹو ٹیکٹونک پلیٹوں‘ کے علاقے میں واقع ہے۔ عرب پلیٹ شمال کی جانب بڑھتی ہے اور یوریشین پلیٹ سے ٹکرا جاتی ہے، جس سے ملک میں مسلسل زیر زمین دباؤ بنتا ہے اور وقتاً فوقتاً طاقتور زلزلے آتے رہتے ہیں۔ ایران میں گزشتہ چند دنوں سے مسلسل زیر زمین ہلچل محسوس کی جا رہی ہے۔ گزشتہ اتوار کے روز ہی جنوب مغربی صوبہ خوزستان کے سالینڈ علاقے میں بھی 5.0 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے بعد گورنر سید محمد رضا مولائی زادے نے تمام ایمرجنسی اور ریسکیو سروسز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی تھی۔ تہران یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف جیو فزکس کی حالیہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ایران میں محض ایک ہفتے کے اندر 80 سے زیادہ چھوٹے بڑے زلزلے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ مسلسل آرہے زلزلوں کے ان جھٹکوں نے مقامی شہریوں کے دل میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔