سرکار کو ایندھن کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس لینی چاہئیں: کھرگے
نئی دہلی، 27 جون (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے پٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں کے تعلق سے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت عوام سے راحت چھین کر وصولی کی سیاست کر رہی ہے۔
مسٹر کھرگے نے ہفتہ کو سوشل میڈیا 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں کہا کہ خام تیل (کروڈ آئل) کی بین الاقوامی قیمتوں میں بھاری گراوٹ کے باوجود حکومت پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کے دام کم نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مغربی ایشیا میں جنگ کے دوران خام تیل 138 ڈالر فی بیرل تھا، تب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں موجودہ قیمتوں سے کم تھیں، جبکہ اب خام تیل کی قیمت تقریباً 70.71 ڈالر فی بیرل ہونے کے باوجود صارفین کو راحت نہیں دی جا رہی ہے۔
کانگریس صدر نے سوال کیا کہ جنگ کا حوالہ دے کر بڑھائے گئے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کے دام اب معمول کے مطابق سپلائی ہونے کے باوجود واپس کیوں نہیں لیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ گھریلو ایل پی جی، پانچ کلو گرام والے چھوٹے سلنڈر اور سی این جی کی قیمتوں میں کٹوتی کرنے سے حکومت کیوں بچ رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جب خام تیل مہنگا تھا تب بھی عوام پر بوجھ ڈالا گیا اور اب خام تیل سستا ہونے کے باوجود عام لوگوں کو راحت نہیں دی جا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے لیے عوام صرف ٹیکس اور وصولی کا ذریعہ بن کر رہ گئے ہیں ۔