Jadid Khabar

امریکہ کے ساتھ بات چیت کا بنایا جارہا ہے منصوبہ، سوئٹزر لینڈ میں ملاقات ملتوی ہونے کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کا بیان

Thumb

 
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ سوئٹزر لینڈ میں ایرانی اور امریکی نمائندہ وفود کے درمیان ہونے والی ملاقات ملتوی کر دی گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں ایک اور میٹنگ کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق بقائی نے بتایا کہ مذاکرات کے اگلے دور کی بات چیت کے لیے ثالثوں کے ذریعے مشاورت جاری ہے اور شرائط طے ہونے کے بعد نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔
خبر رساں ایجنسی ’سنہوا‘ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے تحت مذاکرات کی بحالی کا انحصار معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد پر ہے، جس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ اور فوجی کارروائی ختم کرنا، امریکی بحری ناکہ بندی ہٹانا، 60 دنوں کے لیے جہازوں کی آمد ورفت کے لیے آبنائے ہرمز محفوظ اور مفت کھولنا، امریکہ کی جانب سے ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور مشتق اشیاء کی برآمدات کے لیے چھوٹ دینا اور ایران کے منجمد کئے گئے اثاثوں کو جاری کرنا شامل ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ جمعہ کی ملاقات کا مقصد اصل میں معاہدے پر دستخط کرنے اور حتمی معاہدے پر بات چیت کے انتظامات پر تبادلہ خیال کرنے کے تھی لیکن انہوں نے بتایا کہ یہ اس وقت غیر ضروری ہو گیا جب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کی صبح الیکٹرانک طور پر اس دستاویز پر دستخط کردیئے۔
انہوں نے کہا کہ ایم او یو کے تحت ایران اپنی موجودہ جوہری حیثیت کو برقرار رکھے گا اور آئی اے ای اے کی نگرانی کو بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ جیسی سائٹس تک ہی محدود رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی وجہ سے پہلے جن مقامات پر جانے سے منع کیا گیا تھا، ان تک رسائی کا انحصار مذاکراتی عمل اور اس کے نتائج پر ہوگا۔