ممتا بنرجی کے دو نجی سیکیورٹی افسران کو ہٹائے جانے پر سیاسی تنازع
کولکاتا، 18 جون (یواین آئی) مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی سیکیورٹی پر تعینات دو نجی سیکیورٹی افسران (پی ایس او) کو سیکیورٹی پروٹوکول کے تحت اچانک ہٹائے جانے کے بعد ریاست میں سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
ریاستی انتظامیہ کے مطابق سیکیورٹی افسران کی تعیناتی روٹیشن کی بنیاد پر کی جاتی ہے تاکہ سیکیورٹی سے متعلق کوئی حساس معلومات لیک نہ ہوں۔ تاہم، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے راجیہ سبھا رکن ڈیرک اوبرائن کے اس الزام کے بعد کہ یہ تبدیلی سیاسی محرکات کے تحت کی گئی ہے، معاملے نے سیاسی رنگ اختیار کر لیا۔
ڈیرک اوبرائن نے سوشل میڈیا پر سوالات اٹھاتے ہوئے ممتا بنرجی کے سیکیورٹی انتظامات پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے لکھاکہ"یہ اچانک تبدیلی کیوں کی گئی؟ کیا یہ بھوانی پور انتخابی نتائج سے متعلق معاملے کی وجہ سے کیا گیا ہے؟ کیا اس لیے کہ انہوں نے بدھ کے روز خوانچہ فروشوں کو ہٹانے کے خلاف احتجاجی مارچ کی قیادت کی تھی؟ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟"
یہ تنازع بدھ کی رات اس وقت شروع ہوا جب اوبرائن نے ممتا بنرجی کی کالی گھاٹ رہائش گاہ کے باہر سے سوشل میڈیا پر لائیو ویڈیو نشر کی اور دعویٰ کیا کہ مرکزی دروازے پر کوئی سیکیورٹی اہلکار موجود نہیں تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کوئی بھی شخص بغیر کسی روک ٹوک کے احاطے میں داخل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ممتا بنرجی کی سیکیورٹی پر تعینات ان کے دو قابلِ اعتماد نجی سیکیورٹی افسران، سوروپ گوسوامی اور کُسم کمار دویدی، کو پولیس نے اچانک ہٹا دیا ہے۔
اوبرائن کی یہ لائیو ویڈیو تیزی سے وائرل ہو گئی اور سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ آیا ممتا بنرجی کی سیکیورٹی میں کمی کر دی گئی ہے۔
نَبَنّا (ریاستی سیکریٹریٹ) کے اعلیٰ حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ممتا بنرجی کی سیکیورٹی میں تعینات عملے کو واپس نہیں بلایا گیا ہے۔ انتظامی ذرائع کے مطابق ان کی زیڈ کیٹیگری سیکیورٹی بدستور برقرار ہے اور ان کی رہائش گاہ کے اطراف مناسب تعداد میں سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔
حکام نے واضح کیا کہ معاملہ صرف نجی سیکیورٹی افسران کی تعیناتی سے متعلق ہے، اور یہ کہ افسران کی تعیناتی سرکاری ڈیوٹی روسٹر اور سیکیورٹی پروٹوکول کے مطابق کی جاتی ہے۔ سرکاری سیکیورٹی فرائض میں ذاتی پسند یا ناپسند کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
نَبَنّا کے مطابق ممتا بنرجی نے اپنی خواہش ظاہر کی تھی کہ سوروپ گوسوامی اور کُسم کمار دویدی ہی ان کے نجی سیکیورٹی افسران کے طور پر برقرار رہیں، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ انتظامی قوانین ذاتی پسند کی بنیاد پر سیکیورٹی تعیناتی کی اجازت نہیں دیتے۔
پولیس ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ممتا بنرجی کی قیادت میں گزشتہ روز نکالے گئے احتجاجی مارچ کے بارے میں انتظامیہ کو باضابطہ طور پر مطلع نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود، جیسے ہی پولیس کو مارچ کی اطلاع ملی، فوری طور پر سخت سیکیورٹی انتظامات کر دیے گئے۔