Jadid Khabar

امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے کئی ممالک کی مشترکہ فوج بھیجنے کی کر رہا تیاری، حکومت ہند کا انکار

Thumb

 
آبنائے ہرمز میں لگاتار رخنہ اندازی کے سبب پوری دنیا کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے مقصد سے امریکہ کئی ممالک پر مشتمل مشترکہ فوجی انتظام پر کام کر رہا ہے۔ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات سے کوئی حل نہیں نکلتا تو اس معاملے پر کئی ممالک کی افواج تعینات کرنے کی تجویز پر فرانس میں ہونے والی میٹنگ میں غور کیا جائے گا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے ہندوستان پر بھی اس مشن میں فوجی تعاون دینے کا دباؤ ہے، لیکن ہندوستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔
ہندوستان کا کہنا ہے کہ علاقائی کشیدگی کا حل بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ فرانس میں مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے ہونے والی میٹنگ میں ہندوستان اپنا مؤقف پیش کرے گا۔ اسی طرح جی-7 سربراہی اجلاس میں بھی وزیر اعظم نریندر مودی ایران اور علاقائی سلامتی سے متعلق امور پر ہندوستان کا نقطۂ نظر دنیا کے سامنے رکھیں گے۔
ایران کے ساتھ مذاکرات اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے موضوع پر فرانس نے مصر، قطر، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور سعودی عرب کو دعوت دی ہے۔ 16 جون کو ہونے والی اس میٹنگ میں ان ممالک کے علاوہ ہندوستان اور امریکہ بھی شریک ہوں گے۔ 15 سے 17 جون تک جاری رہنے والا یہ اجلاس فرانس کے شہر ایویان-لے-بین میں منعقد ہوگا، جہاں دنیا کی بڑی معیشتوں کے سرکردہ لیڈران جمع ہوں گے۔ اس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سمیت دیگر اعلیٰ سطحی وفود بھی شریک ہوں گے۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کے مسئلے پر جی-7 میں تبادلۂ خیال ہونا یقینی ہے۔ روس-یوکرین تنازع پر بھی جی-7 ممالک کے درمیان گفتگو کی جائے گی۔ ہندوستان بیشتر موضوعات میں شریک ہوگا۔ 14 جون کو وزیر اعظم مودی اور فرانس کے صدر امینوئل میکرون کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوگی۔ دونوں لیڈران ظہرانے میں بھی ایک ساتھ شریک ہوں گے۔ وزیر اعظم مودی فرانس میں جی-7 سربراہی اجلاس کے ساتھ ساتھ پیرس میں ایک ٹیکنالوجی کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے۔ وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ فرانس اور سلوواکیہ پر مشتمل دو ملکی دورے کا حصہ ہے۔ مودی نیس میں فرانسیسی صدر امینوئل میکرون سے ملاقات کریں گے اور پھر اتوار کو سلوواکیہ روانہ ہوں گے، جہاں ان کی وزیر اعظم رابرٹ فیکو سے ملاقات متوقع ہے۔
یہ جی-7 کا 52واں سربراہی اجلاس ہوگا۔ اس سے قبل فرانس نے 2019 میں بیاریتز میں جی-7 اجلاس کی میزبانی کی تھی، جبکہ ایویان-لے-بین نے 2003 میں جی-8 سربراہی اجلاس کی میزبانی کی تھی۔ تقریباً 23 سال بعد یہ شہر ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کا اہم مرکز بننے جا رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جی-7 دنیا کی سات ترقی یافتہ معیشتوں کا گروپ ہے، جس میں امریکہ، فرانس، جرمنی، برطانیہ، اٹلی، جاپان اور کناڈا شامل ہیں۔ یورپی یونین بھی اس گروپ کے اجلاس میں شریک ہوتی ہے۔ یہ فورم دنیا کو درپیش بڑے معاشی، سیاسی اور سلامتی کے چیلنجز پر تبادلۂ خیال کے لیے قائم کیا گیا ہے۔