کھادوں کی بلیک مارکیٹنگ اور کسانوں کے معاشی استحصال کی اعلیٰ سطحی جانچ ہو: دگوجے سنگھ
بھوپال، 11 جون (یو این آئی) سابق وزیر اعلیٰ اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ دگوجے سنگھ نے ریاست میں ڈی اے پی ، ایس ایس پی اور مختلف کمپلیکس کھادوں کی تقسیم اور فروخت میں مبینہ بے ضابطگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کرانے اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے وزیر اعلیٰ کو لکھے خط میں کہا ہے کہ ریاست کے مختلف اضلاع سے کسانوں اور کسان تنظیموں کی طرف سے یہ شکایتیں موصول ہو رہی ہیں کہ کواپریٹو سوسائٹیوں ، مارکیٹنگ اداروں اور نجی دکانداروں کے ذریعے کھادوں کی فروخت ان پر لکھی ہوئی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت سے زیادہ نرخوں پر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پرانے اسٹاک میں موجود کھادوں کو بھی پی او ایس اور ای ٹوکن سسٹم میں دکھائی دینے والی نئی اور بڑھی ہوئی قیمتوں پر بیچا جا رہا ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ یہ معاملہ صرف قیمتوں میں اضافے کا نہیں ہے، بلکہ کسانوں کے بطورِ صارف حقوق، شفافیت اور قانون کی ممکنہ خلاف ورزی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ فرٹیلائزر (کنٹرول) آرڈر، 1985 اور ضروری اشیاء کا ایکٹ (ایسنشیل کموڈٹیز ایکٹ)، 1955 کے قوانین کے مطابق کسی بھی کھاد کی فروخت اس پر درج ایم آر پی سے زیادہ قیمت پر نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پوری ریاست میں کھاد کی تقسیم اور فروخت کے نظام کی خصوصی اور آزادانہ جانچ کرائی جائے، پرانے اسٹاک پر نئی قیمتیں وصول کرنے سے متعلق شکایات کی ضلعی سطح پر تفتیش ہو، کسانوں سے زیادہ وصول کی گئی رقم انہیں واپس کرائی جائے اور قصوروار افسران، ملازمین اور دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔