کولکاتہ، 3 جون (یو این آئی) ترنمول کانگریس کے اندر جاری سیاسی بحران اُس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب پارٹی کے 58 ارکانِ اسمبلی نے مبینہ طور پر اسمبلی اسپیکر رتھیندر بوس کو ایک خط پیش کرکے معطل شدہ رکنِ اسمبلی رتوبرت بنرجی کو قائدِ حزبِ اختلاف اور اخترالزمان کو چیف وہپ مقرر کرنے کی سفارش کی۔ اس پیش رفت کو سابق وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی اور پارٹی کے جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی کی قیادت کے فیصلوں کے خلاف ایک کھلا چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ ترنمول کانگریس کے قانون ساز گروپ میں ممکنہ تقسیم کا اب تک کا سب سے واضح اشارہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 58 ارکانِ اسمبلی نے باضابطہ طور پر رتوبرت بنرجی کی قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر تقرری کی حمایت میں اپنا مکتوب اسپیکر کو پیش کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پارٹی قیادت کی جانب سے اس عہدے کے لیے شوبھندیب چٹوپادھیائے کے نامزد کیے جانے کو مسترد کر دیا ہے۔باغی ارکان نے فرہاد حکیم کو چیف وہپ مقرر کرنے کی بھی مخالفت کی ہے اور ان کی جگہ اخترالزمان کے نام کی تجویز پیش کی ہے۔ اسی طرح نائب قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدے کے لیے جاوید خان، شیولی ساہا اور سندیپن ساہا کے نام بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ سندیپن ساہا کا نام اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ انہیں حال ہی میں رتوبرت بنرجی کے ساتھ پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزام میں ترنمول کانگریس سے خارج کر دیا گیا تھا۔اسمبلی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ خط اسپیکر کو موصول ہو چکا ہے۔ اب یہ معاملہ مکمل طور پر اسمبلی اسپیکر رتھیندر بوس کے زیرِ غور ہے، جنہیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ناراض دھڑے کی جانب سے پیش کیے گئے اکثریتی حمایت کے دعوے کی بنیاد پر حزبِ اختلاف کی نئی قیادت کو تسلیم کیا جائے یا نہیں۔اسمبلی کے ایک عہدیدار کے مطابق، ''خط پر دو تہائی سے زائد ارکانِ اسمبلی کے دستخط موجود ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اس لیے حتمی فیصلہ اب اسپیکر کے اختیار میں ہے۔