نئی دہلی، 9 مارچ (یو این آئی) وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے پیر کو کہا کہ حکومت ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد مغربی ایشیا میں تیزی سے بڑھتے ہوئے تنازع پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے، جس نے ایک وسیع علاقائی بحران کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو یقین دلایا کہ حکومت ہندوستانی مفادات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔اپوزیشن ارکان کی نعرے بازی کے دوران راجیہ سبھا میں بیان دیتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ذاتی طور پر ان حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ پورے خطے میں صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔ وزیر خارجہ نے ایوان کو بتایا، ''وزیر اعظم ابھرتی ہوئی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں، اور متعلقہ وزارتیں موثراقدامات کو یقینی بنانے کے لیے ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں۔''
وزیر خارجہ کی یہ بریفنگ اس تنازع کے بعد سامنے آئی ہے جو 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ملک کی حکمراں قیادت کے کئی ارکان کے ساتھ جاں بحق ہو گئے، جس سے پورے مغربی ایشیا میں کشیدگی شدید تر ہو گئی۔
اس کے بعد کے دنوں میں عداوت میں شدت آئی ہے، اوراختتام ہفتہ تیل کے ڈپو اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس کو نشانہ بنانے والے تازہ حملوں کی اطلاعات نے ایک وسیع علاقائی جنگ کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
جے شنکر نے کہا کہ حکومت نے خطے میں عدم استحکام کے امکان کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا اورصبروتحمل پر زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا، ''ہماری حکومت نے 20 فروری کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا اور تمام فریقین سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی گئی تھی۔ ہمارا اب بھی یہی ماننا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔''
ہندوستان کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ نئی دہلی نے 28 فروری کوجنگ شروع ہونے کے بعد باضابطہ طور پر اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا تھا، خاص طور پر بڑھتے ہوئے جانی نقصان اور ایرانی قیادت کے ڈھانچے کے بکھر جانے کے پیش نظر۔
جے شنکر نے قانون سازوں کو یہ بھی مطلع کیا کہ مودی کی زیر صدارت کابینہ کی کمیٹی برائے سلامتی بدلتی ہوئی صورتحال اورہندوستان پر اس کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پینل وسیع تر علاقائی نتائج کے ساتھ ساتھ متاثرہ ممالک میں رہنے والے یا سفر کرنے والے ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ''کمیٹی علاقائی تنازع اور خطے میں موجود ہندوستانیوں اورہندوستانی مسافروں کو درپیش مشکلات کے بارے میں فکر مند ہے،'' انہوں نے مزید کہا کہ تمام وزارتوں کو ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
وزیر خارجہ کے مطابق، خطے میں جغرافیائی سیاسی ماحول نمایاں طور پر خراب ہوا ہے، کیونکہ یہ تنازع اب دیگر ممالک تک پھیلنا شروع ہو گیا ہے، جس سے عالمی سلامتی اور اقتصادی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ایوان میں ہنگامہ آرائی کے باوجود، جے شنکر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی رابطوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا، ''تمام فریقین کے لیے کشیدگی کم کرنے کا راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی ہے۔''