Jadid Khabar

اے آئی انسانی تاریخ میں تبدیلی کا بڑا انقلاب، ہندوستان کا 'مانو' وژن سب کے مفاد میں: مودی

Thumb

نئی دہلی 19 فروری (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کو پوری انسانی تاریخ میں تبدیلی کا ایک بڑا انقلاب اور مثبت طاقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال انسانیت کی بھلائی کے لیے ایک نعمت ہے، لیکن اس کا غلط استعمال تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے اے آئی کے بارے میں ہندوستان کا نظریہ 'مانو' بھی پیش کیا جو اس کے اخلاقی، جوابدہ، خود مختار اورقانونی شکل کے خاکہ کی وضاحت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا یہ ویژن 21ویں صدی میں انسانیت کی بہبود کی اہم کڑی بنے گا۔
مسٹر مودی نے جمعرات کو یہاں 'انڈیا اے آئی امپیکٹ' کانفرنس میں دنیا بھر کے ممتاز اے آئی ماہرین، کئی ممالک کے سربراہان مملکت، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور صنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی تاریخ میں کچھ صدیوں کے بعد ایک فیصلہ کن موڑ آتا ہے جو تہذیب کی سمت طے کرتا ہے، جس سے سوچنے کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شروع میں اس کے اثرات کا اندازہ بھی نہیں ہوتا لیکن بعد میں یہی تہذیب کی بنیاد بنتا ہے۔
انہوں نے قدیم تاریخ کے کئی مراحل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی انسانی تاریخ میں تبدیلی کا ایک انقلاب ہے، اس سے مشینوں کو ذہین بنا کر انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قدیم مراحل کی بات کریں تو فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار تبدیلی کی رفتار اور اس کا پیمانہ غیر معمولی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے دیکھتے ہوئے ہمیں وژن اور ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ادا کرنی ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ کئی بڑے سوالات ہیں جیسے آنے والی نسلوں کے ہاتھوں میں ہم اے آئی کی کیا شکل سونپ کر جائیں گے اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ موجودہ وقت میں ہم اے آئی کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے ایٹمی توانائی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس کی تباہی بھی دیکھی اور اب انسانیت کے لیے اس کا مثبت تعاون بھی دیکھ رہے ہیں۔ اسی طرح اے آئی بھی ایک مثبت طاقت ہے، اگر یہ سمت سے بھٹک جائے تو تباہی ہے اور اگر اسے صحیح سمت ملی تو یہ ایک نعمت ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اے آئی کو 'سروجن ہتائے، سروجن سکھائے' کے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے اور یہی ہمارا پیمانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ "توجہ طلب بات یہ ہے کہ انسان اے آئی کے لیے محض ڈیٹا اور خام مال تک محدود نہ رہ جائے۔ اس لیے اے آئی کو جمہوری بنانا ہوگا، اسے برابری کا ذریعہ بنانا ہوگا اور گلوبل ساؤتھ پر خاص طور پر توجہ دینی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی کو کھلی چھوٹ دینی ہوگی لیکن کنٹرول بھی ہاتھ میں رکھنا ہوگا، ہم اسے جس سمت لے کر جائیں گے ویسا ہی مستقبل طے ہوگا۔
مسٹر مودی نے اے آئی کے لیے ہندوستان کا موقف واضح کرتے ہوئے 'مانو' وژن بھی پیش کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی کے استعمال کی بنیاد اخلاقی نظام، جوابدہ طرزِ حکمرانی، قومی خودمختاری، آسان و ہمہ گیر رسائی اور جائز و قانونی ڈھانچہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا یہ 'مانو' وژن 21 ویں صدی میں انسانیت کی بہبود کی اہم کڑی بنے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کو اے آئی میں اپنی تقدیر اور مستقبل نظر آتا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ عام طور پر نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں شروع میں شبہات ہوتے ہیں لیکن جس تیزی اور بھروسے سے نوجوان اے آئی کو قبول کر رہے ہیں وہ بے مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی نمائش کے تعلق سے بھی کافی جوش و خروش رہا ہے اور نوجوان ٹیلنٹ بڑی تعداد میں اسے دیکھنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، ضروری سہولیات اور معذور افراد کے لیے سہولت ہندوستانی اختراعی صلاحیت کی بڑی مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ توجہ طلب بات یہ ہے کہ اے آئی سے کتنا روزگار پیدا ہوگا اور کس طرح کا روزگار ہوگا، اس کا انحصار ہمارے فیصلے پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مل کر کام کرنے کا دور ہے اور انسان اور اے آئی مل کر اسمارٹ اور بااختیار زندگی گزارنے کی سمت میں قدم اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم مل کر چلیں تو انسانی صلاحیت کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ اے آئی میں شفافیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہی اس کی سب سے بڑی حفاظت ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کچھ ممالک کا خیال ہے کہ یہی ہمارا اسٹریٹجک اثاثہ ہے لیکن ہندوستان کی سوچ مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اسے بانٹنے کے حق میں ہے اور اس کا خیال ہے کہ اے آئی جیسی ٹیکنالوجی اسی صورت میں فائدہ مند ہوگی جب اسے مشترکہ طور پر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سب کو مل کر عہد کرنا ہوگا کہ اے آئی کو مشترکہ مفاد میں فروغ دیا جائے گا۔ اس کے لیے عالمی معیار بنانے کی ضرورت ہے جو شفافیت پر مبنی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت کے ذریعے 'ڈیپ فیک' جیسے مسائل سے نمٹا جا سکتا ہے۔
انہوں نے شرکاء کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی اور تاریخی اے آئی کانفرنس میں آپ سب کا تہہ دل سے استقبال ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان آبادی والے ملک ہندوستان میں اس کا انعقاد پورے گلوبل ساؤتھ کے لیے فخر کا باعث ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے 100 سے زائد ممالک کی نمائندگی اور اس میں بڑی تعداد میں نوجوانوں کی موجودگی ایک نیا اعتماد پیدا کرتی ہے۔