نئی دہلی، 31 جنوری (یو این آئی) کانگریس نے مالی سال 2026-27 کے مرکزی بجٹ پیش ہونے کے موقع پر شماریاتی اعداد و شمار کے جاری ہونے کے وقت کے حوالے سے گہری تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ بجٹ کے مالی تخمینے پرانے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہو سکتے ہیں، کیونکہ بجٹ پیش ہونے کے صرف چند دن بعد ہی ملک کی ترقی کی شرح (جی ڈی پی) اور مہنگائی کی شرح (سی پی آئی) کے حساب کے بنیادی سال (بیس ایئر) میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
کانگریس کے جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی سال میں اس تبدیلی سے بجٹ کے اہم اعداد و شمار، جیسے کہ مالی خسارہ اور ترقی کی شرح کے اہداف میں بڑی بے ترتیبی پیدا ہوسکتی ہے۔ اس سے پالیسی سازی کے عمل میں ہم آہنگی کی کمی ظاہر ہوسکتی ہے جس سے بجٹ کے حقیقی اثرات کا درست اندازہ لگانا چیلنجنگ ہو جائے گا۔
انہوں نے لکھا کہ بجٹ کے کئی اعداد و شمار جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر پیش کیے جائیں گے، لیکن چند دن بعد ہی 2022-23 کو بنیاد سال تصور کرکے نئی جی ڈی پی سیریز جاری ہونے والی ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اتوار کو پیش کیے جانے والے بجٹ کے اعداد و شمار میں اس کے فوراً بعد ترمیم کی جائے گی؟
انہوں نے ایک اور تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 2024 کو بنیاد مان کر نئی صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) سیریز 12 فروری کو جاری ہونے کی توقع ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس نئی سیریز میں غذائی اشیاء کی قیمتوں کی حصہ داری میں تیزی سے کمی دیکھی جا سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کا بھی بجٹ کے اعداد و شمار پر اثر پڑے گا۔ ہول سیل پرائس انڈیکس میں بھی ترمیم کی جا رہی ہے اور ممکن ہے کہ اسے آئندہ چند مہینوں میں شائع کیا جائے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ جو بھی صورت حال ہو، یہ پالیسی سازی میں ہم آہنگی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ کل پیش کیا جائے گا۔ ریاستی حکومتیں بے صبری سے انتظار کر رہی ہوں گی کہ ان کے لیے اس میں کیا ہے، کیونکہ وزیر خزانہ 16ویں مالی کمیشن کی سفارشات نافذ کرنے کا اعلان کرنے والی ہیں۔
واضح رہے کہ مالی کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے، جسے ہر پانچ سال بعد قائم کیا جاتا ہے۔ اس کا کام مرکز کے مجموعی محصول میں ریاستوں کی حصہ داری اور پانچ سال کی مدت کے لیے مخصوص گرانٹس کی سفارشات کرنا ہے۔ نیا 16واں مالی کمیشن 2026-27 سے 2030-31 کی مدت سے متعلق ہے۔