لکھنؤ، 7 اکتوبر (یو این آئی) سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اپنے ہی کارکنان اور حامی پارٹی کے طرزِ عمل پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی سے لوگوں کا دل برداشتہ ہو رہا ہے اور پارٹی اپنا اعتماد اور عوامی حمایت کھو چکی ہے۔
مسٹر یادو نے کہا، ''اب تو بی جے پی کے برے اعمال کی دہائی خود کوئی نہ کوئی بی جے پی والا دے رہا ہے۔'' انہوں نے کہا کہ بی جے پی سے مبینہ بدظنی سے جڑی ویڈیوز اب عوامی طور پر سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق، معاشرے میں تعصبانہ مذہبی کٹرتا کا دور ختم ہو رہا ہے اور عقل، ہم آہنگی اور نئی سوچ کا ماحول بن رہا ہے۔
ایس پی صدر نے الزام لگایا کہ بی جے پی میں حکومت اور تنظیم کی سطح پر کسی کے مشورے یا شمولیت کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی ''آمرانہ مزاج'' میں مبتلا ہے، جہاں دوسرے لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ جب کسی کو جگہ اور فیصلے کے عمل میں شراکت نہیں ملے گی تو عزت کی توقع بھی کیسے کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے کارکنان اب اپنی ہی پارٹی میں خود کو نظر انداز محسوس کر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے اپنے مسائل بیان کر رہے ہیں۔
اکھلیش نے بی جے پی کارکنوں کی حالت کا موازنہ پوری طرح رس نکالے جا چکے گنے سے کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے انہیں اس طرح نچوڑ دیا ہے کہ اب وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی ''قدامت پسندانہ ذہنیت'' اسے بدلتے ہوئے معاشرے اور نئی نسل کی سوچ کا سامنا کرنے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کارکنوں کو ''بن گھاٹ کے بی جے پی والے'' قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے لوگوں سے ہمدردی ہے۔
ایس پی سربراہ نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے اندر بے چینی بڑھ رہی ہے اور پارٹی بھی اندرونی طور پر کمزور ہو رہی ہے۔ انہوں نے آخر میں کہا، ''بی جے پی کا انجام تاریخی ہوگا.