نئی دہلی، 7 اکتوبر (یواین آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات اور مرکزی حکومت کے سربراہ کے طور پر 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر بدھ کے روز کہا کہ یہ سفر ان کے لیے ذاتی تشہیر کا موقع نہیں، بلکہ ملک کے لیے نئے عزم اور نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع ہے۔
مسٹر مودی نے حکومت کے سربراہ کے طور پر مسلسل 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر یہاں 'وکست بھارت سنکلپ سبھا' میں 2047 تک وکست بھارت بنانے، آتم نربھر بھارت کی تعمیر اور ہندستان کو عالمی مینوفیکچرنگ کا مرکز بنانے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا، "ہم کرکے رہیں گے… وی ول ڈو اٹ ۔" وزیر اعظم کے ساتھ موجود لوگوں نے بھی اس نعرے کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کے 140 کروڑ عوام مل کر 2047 کا وکست بھارت ضرور بنائیں گے اور ملک اب رکنے والا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر 2001 کو جب انہوں نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا تھا، تب انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ حکومت کے سربراہ کے طور پر مسلسل 25 سال مکمل کرنے کا موقع بھی آئے گا۔ انہوں نے اس طویل سفر کو عوام کے اعتماد، دعاؤں اور تعاون کا نتیجہ قرار دیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ زندگی میں ان کے ساتھ کھڑے ہونے والے ہر شخص نے انہیں اعتماد کی طاقت دی۔ جس نے انہیں جیت دلائی، اس نے عاجزی سکھائی اور جس نے گرایا، اس نے پھر سے کھڑے ہو کر آگے بڑھنا سکھایا۔ خیر خواہوں نے حوصلہ افزائی کی، جبکہ تنقید کرنے والوں نے انہیں اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر بحران ان کے صبر کا امتحان رہا اور ہر کامیابی نے ان کے اندر ذمہ داری کے احساس کو مزید مضبوط کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی زندگی کا کوئی واقعہ ضائع نہیں گیا۔ ہر واقعے نے انہیں کچھ نہ کچھ سکھایا۔ کورونا وبا نے انہیں قوم کی اہمیت اور اجتماعی طاقت کا شعور دیا، جبکہ دیہاتوں اور غریبوں نے سکھایا کہ وسائل محدود ہو سکتے ہیں لیکن خواب بڑے اور حوصلے بلند ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں سال کے ثقافتی تجربے والی قوم کی خدمت کرتے ہوئے انہیں کبھی اکیلاپن محسوس نہیں ہوا۔ انہوں نے ملک کے کروڑوں رضاکاروں اور کارکنوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کا مقصد 'ماں بھارتی' کی بے لوث خدمت ہے۔ ایسے رضاکاروں کا انہیں ہمیشہ پورا تعاون ملا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ 25 سال کے اس سفر کو صرف ماضی کی یادوں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ دن نئے عزم لینے اور ان وعدوں و ارادوں کو پورا کرنے کے لیے نئی توانائی حاصل کرنے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لال قلعے سے انہوں نے "سب کا پریاس" کی بات کہی تھی اور ہندستان کو نئی بلندیوں پر پہنچانے کے لیے اسی اجتماعی جذبے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے وکست بھارت-2047، آتم نربھر بھارت اور ہندستان کو عالمی مینوفیکچرنگ ہب بنانے جیسے اہداف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے لوگوں کی رگوں میں ایسی خود اعتمادی دوڑ رہی ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔
انہوں نے اپنے سیاسی سفر کے ابتدائی دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 25 سال پہلے جب وہ 50 سال کی عمر میں گجرات کی ذمہ داری سنبھالنے پہنچے، تب ان کی زندگی بنیادی طور پر تنظیم کے کام کے لیے وقف تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان میں انتخابی سیاست میں آگے بڑھنے کی خواہش ہوتی تو وہ بہت پہلے ہی انتخابی میدان میں اتر سکتے تھے، لیکن انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ انہیں زندگی میں کیا بننا ہے۔ بچپن سے ملی تعلیم یہی تھی کہ مقصد کے لیے زندگی جینی ہے۔ اس لیے جو بھی ذمہ داری ملی، اسے نبھاتے چلے گئے۔ انہوں نے کہا، "کرم ہی میرا دھرم ہے" ۔ گیتا کے 'کرم یوگ' کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے لیے کام صرف ایک ذمہ داری نہیں بلکہ ملک کے لیے سادھنا ہے۔ ملک اور اہل وطن کے لیے صلے کی پروا کیے بغیر مسلسل کام کرنا ہی ان کا راستہ رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جب بات ملک کی ہو تو اقتدار، عہدے اور عزت کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ عہدہ اور عزت مل سکتی ہے، لیکن ہندستان جیسی پاک سر زمین نہیں مل سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جس ہندستان نے مشکل دور میں بھی پوری انسانیت کو پیغام دیا، اس کی خدمت کا موقع ملنا انمول ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25 برسوں میں ان کا جائزہ اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ اس دوران ملک کہاں پہنچا۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کا منتر تھا کہ گجرات کی ترقی کے ساتھ ملک کی بھی ترقی ہو۔ اس وقت حکومت چلانے کا تجربہ بھلے نہ ہو لیکن عوام کا اعتماد ان کے پاس تھا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی طاقت پر بھروسہ ان کے برسوں کے کام کا نچوڑ تھا اور عوام کو ساتھ لے کر پالیسیاں بنائی گئیں اور نافذ کی گئیں۔ اسی جذبے کو انہوں نے "وی ول ڈو اٹ" کا منتر بتایا۔
مسٹر مودی نے گجرات کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ساتھ لے کر کی گئی کوششوں سے نتائج سامنے آئے اور گجرات نے کئی شعبوں میں کر کے دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ گجرات سے ملی سیکھ آج بھی ان کے کام آ رہی ہے۔ 2014 میں ملک نے انہیں "پردھان سیوک" کے طور پر خدمت کا بڑا دائرہ دیا۔ اس وقت ملک کے سامنے سنگین چیلنجز تھے، مہنگائی بڑھ رہی تھی اور ملک میں مایوسی کا ماحول تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی انہوں نے ہم وطنوں کے سامنے اعتماد رکھا کہ ہندستان ان چیلنجز سے باہر نکلے گا اور "وی ول ڈو اٹ" کے عزم کے ساتھ آگے بڑھے گا۔
وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 12 برسوں میں ملک کی تصویر مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ پہلے کوئی بڑا بحران آنے پر ہندستانی معیشت متاثر ہوتی تھی، جبکہ آج عالمی بحرانوں کے درمیان دنیا ہندستان کی صلاحیت اور معیشت کا چرچا کرتی ہے۔ انہوں نے شمسی توانائی، زرعی ترقی اور دیگر شعبوں میں ہندستان کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2015 سے 2025 کا دہائی زرعی شعبے کی ترقی کے لحاظ سے اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب نیت صاف اور پالیسی واضح ہوتی ہے تو نتائج بھی آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "سب کا ساتھ، سب کا وکاس"حکومت کا بنیادی اصول رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کے لیے معاشرے کو ووٹوں کے حساب سے بانٹنے کا رجحان رہا ہے لیکن پانی، بجلی، سڑک یا دیگر بنیادی سہولیات کا مسئلہ کسی ایک طبقے کا نہیں ہوتا۔ مسئلہ سب کا ہے تو حل بھی سب کا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام طبقوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی ہے اور یہ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ کسی کے حق پر کوئی ڈاکہ نہ ڈال سکے۔
جاری یواین آئی۔الف الف