Jadid Khabar

برکس اجلاس سے عین قبل پی ایم مودی کی ابوظبی، ملیشیا اور ایتھوپیا کے سربراہان سے ہوئی بامعنی ملاقات

Thumb

ہندوستان میں جاری برکس اجلاس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے، لیکن اس سے پہلے ہی ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی ممالک کے سربراہان سے ملاقات کر کچھ اہم پیش رفت کا اشارہ دیا ہے۔ 12 ستمبر کو برکس اجلاس میں شرکت کے لیے ’بھارت منڈپم‘ پہنچنے سے پہلے پی ایم مودی ابوظبی، ملیشیا اور ایتھوپیا کے سربراہان سے بامعنی ملاقات کی ہے، جس کے متعلق میڈیا میں خوش آئند خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ایم مودی نے آج برکس اعلیٰ سطحی اجلاس سے قبل ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی۔ دونوں لیڈران نے ہندوستان-یو اے ای وسیع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا جو سیاسی، ثقافتی، تجارتی، توانائی اور رابطہ عامہ کے رشتوں پر مبنی ہے۔ اس میٹنگ کے دوران پی ایم مودی نے ہندوستان کی صدارت میں برکس میں یو اے ای کی فعالیت و تعمیری شراکت داری کی تعریف بھی کی۔ دونوں لیڈران نے برکس کے ذریعہ مشترکہ مفادات اور ترجیحات کو آگے بڑھانے پر اتفاق رائے ظاہر کیا۔
موصولہ اطلاع کے مطابق اس میٹنگ میں دو فریقی تعلقات میں ہوئی پیش رفت کا بھی تجزیہ ہوا۔ خاص طور سے یو اے ای کی انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی کے ذریعہ اڈیشہ میں 11.5 ارب ڈالر کے انٹگریٹیڈ گرین فیلڈ الیومینیم پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کے اعلان کا استقبال کیا گیا۔ اسے ہندوستان کی سب سے بڑی انٹگریٹیڈ ایلیومینیم سرمایہ کاری بتایا گیا ہے، جس سے اڈیشہ کو عالمی ایلیومینیم مینوفیکچرنگ سنٹر بنانے میں مدد ملے گی۔ پی ایم مودی اور شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان نے دفاعی، خلائی، جوہری توانائی، تکنیکی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ملیشیا اور ایتھوپیا کے سربراہان کے ساتھ بھی پی ایم مودی کی میٹنگ کو انتہائی مفید بتایا جا رہا ہے۔ ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم اور ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد کے ساتھ پی ایم مودی کی ہوئی دو فریقی ملاقاتوں میں رشتوں کو نئی سمت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں ہی ممالک نے ہندوستان کے ساتھ دفاعی تعاون مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان سے دفاعی سامان و اسلحوں کی خریداری میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ گفتگو کے دوران انور ابراہیم اور ابی احمد دونوں نے ہی فوجیوں کی مشترکہ تربیت اور دفاعی شعبہ میں صلاحیت بڑھانے پر بھی زور دیا۔ دونوں ہی ممالک نے ہندوستانی صنعت اور سرمایہ کاری کا استقبال کیا، جبکہ ایتھوپیا نے خاص طور سے ہندوستانی کانکنی کمپنیوں کے لیے مواقع کا استقبال کیا۔ ملیشیا کے ساتھ بات چیت میں سیمی کنڈکٹر شعبہ میں تعاون اور سرمایہ کاری کے مواقع پر خصوصی توجہ دی گئی۔