چین کے صدر شی جنپنگ نے مغربی ایشیا کے حالات پر فکر کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ چین مغربی ایشیا اور خلیجی ممالک میں امن و استحکام قائم کرنے میں اپنا مناسب کردار نبھانے کے لیے دیگر برکس ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ چین کی سرکاری نیوز ایجنسی ’شنہوا‘ کے مطابق شی نے کہا ہے کہ جنگ کے سبب پورے خطہ کے لوگوں کو بہت نقصان ہوا ہے اور یہ بین الاقوامی طبقہ کے مشترکہ مفادات کے موافق نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ چین اس خطہ میں امن و استحکام قائم کرنے کے لیے برکس کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ تعاون کرنے کو راضی ہے۔
پی ایم مودی نے 2026 کے برکس اجلاس میں ملاحوں کے لیے ایک ’سی فیئررس ایمرجنسی سپورٹ نیٹورک‘ (ایمرجنسی امدادی نیٹورک) بنانے کی تجویز رکھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملاح عالمی بازار میں اہم تعاون پیش کرتے ہیں، پھر بھی مشکل وقت میں انھیں اکثر مدد نہیں مل پاتی۔ میری تجویز ہے کہ ہم ایک ’ایمرجنسی امدادی نیٹورک‘ قائم کریں۔ یہ نیٹورک سمندری افسران اور متعلقہ ممالک کی سفارتی مہموں کو جوڑے گا، جس سے ایمرجنسی اطلاعات، طبی امداد، فیملی کو جانکاری دینے اور مشکل حالات سے نکالنے میں مدد آسان ہو سکے گی۔‘‘
ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ’برکس اجلاس 2026‘ کا آغاز ہو چکا ہے۔ پی ایم مودی نے اس موقع پر سبھی ممالک کے سربراہان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’ہندوستان میں آپ سبھی کا استقبال ہے۔ ہماری سوچ سبھی کو ساتھ لے کر چلنے کی ہے۔‘‘
ہندوستان کی میزبانی میں ہو رہے برکس اعلیٰ سطحی اجلاس کے لیے چینی صدر شی جنپنگ دہلی پہنچ چکے ہیں، جن کی پی ایم مودی کے ساتھ دو فریقی بات چیت بھی ہونی ہے۔ اس سے قبل انڈونیشیا، فلپائن کے علاوہ افریقی ملک نائیجیریا سے کئی دیگر مہمان بھی ہندوستان پہنچ چکے ہیں۔ اب سبھی ممالک کے سربراہان دھیرے دھیرے ’بھارت منڈپم‘ پہنچ رہے ہیں جہاں کچھ ہی دیر میں برکس اعلیٰ سطحی اجلاس کا باضابطہ آغاز ہوگا۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی بھی ’بھارت منڈپم‘ پہنچ چکے ہیں۔