Jadid Khabar

بہار سیلاب: راجدھانی پٹنہ میں 5 افراد کی موت

Thumb

بہار میں سیلاب کی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ نے 8 ستمبر کو جو تازہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں، اس کے مطابق ریاست کے 13 اضلاع سیلاب کی زد میں آ چکے ہیں۔ ان 13 اضلاع کے 79 بلاکوں کی 480 گرام پنچایتوں میں تقریباً 34.31 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہیں۔ راجدھانی پٹنہ میں تو 5 لوگوں کی موت بھی ہو چکی ہے۔

مرکزی آبی کمیشن کے مطابق بھاگلپور کے سلطان گنج میں گنگا کی آبی سطح 36.80 میٹر درج کی گئی، جو گزشتہ سب سے بلند سیلابی سطح (ایچ ایف ایل) سے 0.05 میٹر اوپر ہے۔ گنڈک، کوسی، بوڑھی گنڈک، گنگا، پُن پُن، باگمتی اور گھاگھرا سمیت کئی ندیاں مختلف مقامات پر خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ دی گئی جانکاری کے مطابق سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے مختلف اضلاع میں 432 کمیونٹی کچن شروع کیا جا چکا ہے، تاکہ لوگوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ بھی مطلع کیا گیا ہے کہ اب تک تقریباً 9.41 لاکھ لوگوں کو کھانا کھلایا جا چکا ہے۔ ساتھ ہی 14 راحت کیمپوں میں 12,294 لوگوں کے لیے رہائش، کھانے اور طبی سہولیات کا انتظام کیا گیا ہے۔ تقریباً 1.29 لاکھ پولی تھین شیٹس اور 22,900 ڈرائی راشن پیکٹس بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 8 ستمبر کو داناپور ایس ڈی او ویروپاکش وکرم سنگھ نے بتایا کہ داناپور اور منیر سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ بلاک ہیں۔ داناپور میں ڈوبنے سے 2 اور منیر میں 3 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ان میں 2 متوفیوں کے اہل خانہ کو 4-4 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر 3 خاندانوں کو اگلے ایک دو دنوں میں ادائیگی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سانپ کے کاٹنے سے ہونے والی ایک موت کے بعد انتظامیہ نے ضروری انتظامات کیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنگلی سور پکڑنے کے لیے پٹنہ چڑیا گھر سے ایک ٹیم بلائی گئی ہے۔
وکرم سنگھ نے ایک راحت بھری خبر یہ دی ہے کہ آئندہ دو تین دنوں میں حالات معمول پر آنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے اگلے 2 دنوں میں ریاست کے کئی حصوں میں ہلکی سے درمیانی بارش اور کچھ مقامات پر شدید بارش کا امکان ضرور ظاہر کیا ہے، لیکن ندیوں کی آبی سطح میں کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ سیلاب کا پانی کم ہونے کے بعد مختلف بیماریوں کا خدشہ بھی ہے، جس کے لیے انتظامیہ پہلے سے لوگوں میں بیداری پیدا کر رہی ہے۔