Jadid Khabar

مایاوتی نے 7.8 فی صد جی ڈی پی نمو کی شرح پر اٹھائے سوال، کہا: ترقی کا فائدہ غریبوں تک پہنچنا ضروری

Thumb

لکھنؤ،  4 ستمبر (یو این آئی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے جاری مالیاتی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی نمو کی شرح 7.8 فی صد رہنے کے سرکاری دعوے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کی مار جھیل رہی عام عوام یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر وہ کس پر بھروسہ کرے اور کس پر نہیں۔ 
محترمہ مایاوتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کہا کہ اگر حکومت کے اعداد و شمار کو سرسری طور پر درست مان بھی لیا جائے تو یہ اچھی بات ہوگی، لیکن اگر یہ اعداد و شمار صرف جگاڑ کے ہیں تو یہ تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام میں امید جگانے کے لیے قابل بھروسہ طریقے سے یہ بتانا چاہیے کہ اعلیٰ شرح نمو کا فائدہ ملک کے کروڑوں غریب اور محنت کش لوگوں کو کیا ملا ہے اور مستقبل میں انہیں کیا فائدہ ملے گا۔ 
بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ ترقی کے اعداد و شمار اور سرکاری دعوے دو دھاری تلوار کی طرح ہیں۔ اس لیے انہیں زمینی حقیقت سے بھی زیادہ پرکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق حقیقی ترقی وہی ہے جس سے عوام کی زندگی میں مثبت اور مساویانہ تبدیلی آئے اور لوگ خوشحال بنیں۔ 
انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی میں اضافے کے اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ترقی کا حقیقی حقدار ملک کا محنت کش طبقہ ہے۔ محترمہ مایاوتی نے کہا کہ جب تک کروڑوں لوگوں کو غربت، بے روزگاری اور کرپشن سے نجات نہیں ملتی اور وہ خود داری کے ساتھ خوشگوار زندگی نہیں گزار پاتے، تب تک ترقی کے دعوؤں کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔ 
محترمہ مایاوتی نے اتر پردیش حکومت کی جانب سے آؤٹ سورس ملازمین کا معاوضہ دوگنا کرنے اور تقریباً 20 لاکھ لوگوں کو سیکیورٹی کور وغیرہ دینے کے لیے یو پی آؤٹ سورس سروس کارپوریشن کے قیام کے فیصلے پر بھی تبصرہ کیا۔ 
انہوں نے کہا کہ اس سے بہتر ہوتا کہ لوگوں کو براہ راست سرکاری نوکری دی جاتی، تاکہ نظام افسر شاہی کی من مانی، کرپشن اور استحصال سے آزاد ہو سکے۔