پٹنہ یکم ستمبر ، بہار کی سر زمین بہت زرخیز ہے اور اس میں روحانیت رچی بسی ہوئی ہے۔ یہ باتیں مشہور صحافی ، کالم نگار اور مدیر جناب معصوم مرادآبادی نے سوموار کو یہاں "فرید ہاؤس" میں اپنے اعزاز میں منعقد ہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہیں ۔ اس کا اہتمام اردو ایکشن کمیٹی بہار ( رجسٹرڈ) نے کیا تھا۔ نشست کی صدارت کثیر الاشاعت اخبار قومی تنظیم کے مدیر اعلیٰ اور اردو ایکشن کمیٹی بہار ( رجسٹرڈ ) کے صدر جناب ایس ایم اشرف فرید نے کی اور نظامت کا فریضہ اردو ایکشن کمیٹی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اشرف النبی قیصر نے انجام دیا ۔استقبالیہ تقریب میں مشہور ادیب ، صحافی اور کالم نگار ڈاکٹر نسیم اختر کی کتاب " غلام سرور ایک شخص ایک کارواں " کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معصوم مراد آبادی نے کہا کہ پٹنہ کی تین شخصیتیں ایسی ہیں جن سے وہ کافی متاثر ہوئے ۔ ان میں ڈاکٹر کلیم عاجز، ڈاکٹر رضوان احمد اور پروفیسر محسن عثمانی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا بہار میں اردو پورے آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے اور پھل پھول رہی ہے۔ لیکن اتر پردیش میں اردو ختم ہو گئی ہے اور لوگ اپنی زبان بھولتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہار وہ ریاست ہے جہاں لوگوں نے اپنی زبان کی حفاظت کی ہے۔ معصوم مراد آبادی نے کہا کہ اردو کے حوالے سے یہاں سرگرمیاں دیکھ کر انہیں کافی توانائی ملی۔انہوں نے کہا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ نے پٹنہ میں دو روزہ جشن اردو کا انعقاد کر کے جو تاریخ رقم کی ہے اس کی بازگشت دوسری ریاستوں میں بھی سنی جا رہی ہے۔ معصوم مراد آبادی نے کہا کہ وہ حادثاتی طور صحافی بن گئے ۔ بنیادی طور پر وہ خطاط تھے اور انہیں یہ پیشہ وراثت میں ملا تھا ۔ ان کے نانا اپنے وقت کے مشہور خطاط تھے اور مولانا ابوالکلام آزاد سے ان کے گہرے مراسم تھے ۔ انہوں نے کھل کر یہ بات کہی کہ صحافت میں انہوں نے کچھ ایسا کام کیا جس سے انہیں کافی شہرت ملی ۔ اپنی صدارتی تقریر میں جناب ایس ایم اشرف فرید نے معصوم مراد آبادی کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریروں میں ایک خاص رنگ ہوتا ہے۔قارئین ان کی تحریریں شوق سے پڑھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس نشست میں جو لوگ تشریف رکھتے ہیں ان کا اپنے اپنے شعبے میں خاص مقام ہے ۔ جناب اشرف فرید نے کہا کہ معصوم مراد آبادی نے اردو صحافت کو وقار عطا کیا اور اسے زندگی بخشی ۔ انہوں نے کہا کہ اردو اخبار نکالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اسے مصلحت کے ساتھ نکالنا پڑتا ہے۔
اس سے قبل اردو مشاورتی کمیٹی کے سابق چیر مین جناب شفیع مشہدی نے اہل عظیم آباد کی طرف سے معصوم مراد آبادی کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ملک میں جو چند صحافی پوری ایمانداریاور خلوص سے اردو زبان و ادب کی خدمت کر رہے ہیں ان میں ایک معصوم مراد آبادی بھی ہیں۔ ان کے قلم میں روانی اور توانائی بھی ہے ۔ جناب شفیع مشہدی نے کہا کہ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے ہی کیا تھا اور پہلی نوکری ایک اخبار میں کی تھی۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انڈین انفارمیشن سروس کے آفیسر جناب سید سلمان حیدر ( ڈپٹی ڈائرکٹر نیوز، دور درشن پٹنہ) نے کہا کہ ہمیں اپنے گھروں میں اردو کو زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اردو اداروں سے اپیل کی کہ وہ اسکولی نصاب میں اردو کو لازمی مضمون کی شکل میں شامل کرنے کی کوشش کریں۔خانقاہ کریمیہ اشرفیہ بیتھو شریف کے زیب سجادہ جناب سید شاہ غفران اشرفی نے کہا کہ اس استقبالیہ تقریب میں شرکت کر کے اور جناب معصوم مراد آبادی سے ملاقات کر کے انہیں بہت خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا وہ بھی عرصے سے معصوم مراد آبادی کی تحریریں پڑھتے رہے ہیں ۔ پورے ملک میں ا۔ن کی تحریر کی دھوم ہے ۔اللہ انہیں سلامت رکھے۔ خانقاہ حضرت دیوان شاہ ارزانی کے سجادہ نشیں ڈاکٹر سید شاہ حسین احمد نے کہا کہ معصوم مراد آبادی سے ان کی براہ راست ملاقات آج ہو رہی ہے لیکن وہ عرصے سے ان کے مضامین شوق سے پڑھتے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ معصوم مراد آبادی کی اہمیت کا اندازہ آج کی نشست سے لگایا جا سکتا جس میں اساتذہ ، صحافی ، ادیبوں اور شاعروں یعنی سبھی حلقے کی نمائندگی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا جناب اشرف فرید کو صحافت وراثت میں ملی ہے جسے وہ بہت خوبصورتی کے ساتھ پروان چڑھا رہے ہیں ۔اردوایکشن کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر انوارالہدی نے کہا کہ معصوم مراد آبادی سے ان کی ملاقات پہلے سے رہی ہے ۔ عظیم آباد کی اس تاریخی سر زمین پر ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں بہت خوشی ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ عظیم آباد کی روایت پر عمل کرتے ہوئے اردو ایکشن کمیٹی نے جناب معصوم مراد آبادی کے اعزاز میں یہ نشست منعقد کی ہے۔انہوں نے نوجوانوں خاص طور پر نئی نسل کے صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ معصوم مراد آبادی کے جہد مسلسل کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ استقبالیہ تقریب سے ڈاکٹر نسیم اختر، صحافی فیضان احمد، ڈاکٹر نعمان قیصر ، ڈاکٹر نقی محمد جون، اثر فریدی ، ڈاکٹر اعجاز رسول ، اصغر حسین کامل ، ڈاکٹر ثریا جبیں اور ڈاکٹر رحمت یونس نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
پروگرام کے آغاز میں سینئر صحافی اور اردو ایکشن کمیٹی کے نائب صدرڈاکٹر ریحان غنی نے تفصیل سے معصوم مراد آبادی کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم مراد آبادی تقریبآ چار دہائیوں سے اردو صحافت سے وابستہ ہیں۔ انہیں ملی ، سیاسی اور ادبی موضوعات پر یکساں دسترس حاصل ہے۔۔ملک کے اہم اخبارات مین ہر اتوار کو؛ان کا مخصوص کالم پابندی سے شائع ہوتا ہے جو کافی مقبول ہے۔ وہ ایک اخبار نویس ہی نہیں بلکہ اچھے ادیب بھی ہیں۔ حق گوئی اور بیباکی ان کی تحریر کی نمایاں خوبیاں ہیں۔ہم عظیم آباد کی تاریخی سر زمین پر اردو ایکشن کمیٹی بہار کے سبھی عہدیداروں اور اراکین اور صحافتی برادری کی طرف سے دل کی گہرایوں سے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ان کی صحت و سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر نسیم اختر نے اپنی کتاب " غلام سرور : شخص اور کارواں " کے حوالے سے کہا کہ بہار میں اردو کے نام پر جو ہلچل اور سرگرمیاں ہیں وہ سب غلام سرور اور ان کے رفقاء کی جہد مسلسل کا نتیجہ ہیں۔
تقریب میں قومی تنظیم کے مدیر ایس ایم طارق فرید، رضوان دربھنگوی، عمران صغیر، ۔ آصف امام کاکوی، ڈاکٹر آفتاب النبی، شاہ فیض الرحمن، عبید الرحمن ایڈو کیٹ، اردو ایکشن کمیٹی پھلواری شریف شاخ کے جنرل سکریٹری سرور سلام ، سید سلمان غنی اور محمد ایوب عالم بھی موجود تھے۔