واشنگٹن، 24 اگست (یو این آئی) امریکی محکمہ خزانہ پیر کو ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرنے والا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کئی ماہ سے جاری فوجی محاذ آرائی اور تعطل کا شکار مذاکرات کے بعد تہران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ان اقدامات کو ''کسی مخالف کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی'' قرار دیا ہے، جبکہ ٹرمپ نے ایران کے لیے ''اقتصادی ڈی ڈے'' کی وارننگ دی ہے۔
بیسنٹ نے کہا کہ نئی پابندیاں ایرانی معیشت کو ''کچل دیں گی'' اور تہران کی اپنی فوج اور خطے میں موجود اتحادی گروہوں کی مالی معاونت کی صلاحیت کو محدود کر دیں گی۔
ٹرمپ نے الگ سے دیگر ممالک کو ایران کو اقتصادی سہارا فراہم کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے ''زبردست اقتصادی نتائج'' بھگتنے کی دھمکی دی ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ممالک کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
نئی پابندیاں ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد عالمی مالیاتی نظام، تجارت اور آمدنی تک ایران کی رسائی کو محدود کرکے تہران کو مذاکرات میں رعایتیں دینے پر مجبور کرنا ہے۔
بیسنٹ نے ان ممالک پر بھی زور دیا ہے جو ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں کہ وہ تہران سے دوری اختیار کریں، بصورت دیگر انہیں واشنگٹن کی جانب سے کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے ممالک کو امریکی مہم میں شامل ہونے سے خبردار کیا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیوں میں حصہ لینے والے کسی بھی ملک کو ''دشمن'' تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ جو ممالک واشنگٹن سے دوری اختیار کرنے سے انکار کریں گے، تہران ان کے مفادات کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔
امریکی نئی پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور ایران اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو بدستور متاثر کر رہا ہے، جس سے عالمی توانائی کی منڈیوں پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔
ایران پہلے ہی کئی دہائیوں سے عائد امریکی پابندیوں اور جنگ کے اثرات کے باعث شدید اقتصادی مشکلات سے دوچار ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، عوام کی قوت خرید کم ہوئی ہے اور بعض درآمدی اشیا کی قلت بھی پیدا ہوئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
مزید پابندیاں ایرانی کرنسی پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہیں اور خوراک، ادویات، صنعتی سامان اور دیگر درآمدات کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
اس کا سب سے زیادہ اثر عام ایرانی شہریوں، خصوصاً کم آمدنی والے خاندانوں، پنشنرز اور چھوٹے کاروباروں پر پڑنے کا خدشہ ہے۔
تاہم ایران نے پابندیوں سے بچنے کے لیے وسیع نیٹ ورک بھی قائم کر رکھے ہیں، جن میں فرضی کمپنیاں، بروکرز، ایکسچینج ہاؤسز اور تیل کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والا خفیہ ٹینکر بیڑا شامل ہے۔