سرکاری ملازمتوں میں بھرتی پر عائد پابندی ہٹا کر فوری بھرتی شروع کرے حکومت: مایاوتی
لکھنؤ، 10 اگست (یو این آئی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے سرکاری ملازمتوں میں بھرتی پر عائد پابندی ہٹا کر خالی آسامیوں پر شفاف اور مقررہ مدت کے اندر بھرتی کا عمل فوری طور پر شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اگر ہر خاندان کے کم از کم ایک فرد کو سرکاری ملازمت مل جائے تو لاکھوں خاندانوں کو براہ راست فائدہ ہوگا اور درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے لوگوں کو ریزرویشن کا آئینی فائدہ بھی مل سکے گا۔
محترمہ مایاوتی نے پیر کو 'ایکس' پر سلسلہ وار پوسٹوں میں کہا کہ بی ایس پی حکومت کے دوران اتر پردیش میں پولیس اور پنچایتی راج محکمے میں تقریباً سوا 2 لاکھ نئی سرکاری آسامیوں کی تخلیق کی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ملازمتوں میں بھرتی پر عائد پابندی ہٹا کر تمام طبقات کے لاکھوں لوگوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئی تھیں۔ اس کے باوجود اتر پردیش سمیت اتراکھنڈ اور پنجاب وغیرہ ریاستوں میں مہنگائی، انتہائی غربت، بے روزگاری، ناخواندگی، بدتر صحت نظام، پسماندگی، نقل مکانی، خواتین کی عدم تحفظ، امتحانی پرچوں کے افشا اور بدعنوانی جیسی مشکلات برقرار ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان سنگین مسائل کے حل کا مطالبہ کیے جانے کے باوجود حکومتیں زیادہ تر معاملات میں بے حس اور لاپرواہ بنی ہوئی ہیں۔
بی ایس پی سربراہ نے کانگریس کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے نام سے، بالخصوص بے روزگاری اور تاریک مستقبل سے متاثر اور دکھی تعلیم یافتہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے دہلی کے جنتر منتر پر 36 دن تک احتجاج کرکے ان سلگتے مسائل کو قومی اہمیت کے سنجیدہ موضوعِ بحث بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس احتجاج کے نتیجے میں ملک کے وزیر تعلیم کو بھی اپنی کرسی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ مایاوتی نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے ملک کے غریبوں، مزدوروں، نوجوانوں، خواتین، محنت کش لوگوں اور بے روزگاری سے متاثرہ خاندانوں کی حقیقی فکر کرتے ہوئے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ قومی اثاثوں کو نجی ہاتھوں میں فروخت کرنے کا عمل روکنے کے ساتھ تمام سرکاری محکموں میں خالی پڑی لاکھوں آسامیوں پر امتحانی پرچوں کے افشا اور بدعنوانی سے پاک، مقررہ مدت کے اندر بھرتی شروع کی جانی چاہیے، تاکہ مسئلے کا فوری حل ہو سکے۔
بی ایس پی صدر نے تمام حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ ہر حال میں ناجائز منافع خوری اور منافع کمانے والی کاروباری ذہنیت کو ترک کرکے آئین کے حقیقی انسان دوست اور فلاحی پالیسی اصولوں کو پوری ایمانداری اور اخلاص کے ساتھ نافذ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہی ہر ہاتھ کو روزگار فراہم کرنے اور ملک و عوام کے مفاد میں لاکھوں دکھوں کی ایک دوا ثابت ہو سکتی ہے۔
مایاوتی نے پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس میں جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات اور بے روزگار نوجوانوں سے متعلق مسائل پر مسلسل جاری تعطل ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ مناسب بحث اور غوروفکر کے بغیر سرکاری بلوں کو منظور کرکے قانون بنانے کے عمل پر روک لگنی چاہیے۔