’ایران اپنے فوجیوں کو تنخواہ بھی نہیں دے پا رہا!‘ امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن اب تہران پر معاشی دباؤ بنانے کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور بڑی فوجی مہم سے قدم پیچھے کھینچنے کا اشارہ دیا ہے۔ اتوار کو ’ایکسیوس‘ کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے محتاط موقف اختیار کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال پر قریب سے نظر رکھ رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’ایران میں بہت زیادہ مہنگائی ہے اور ان کے پاس پیسے نہیں ہیں، اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نرم رویہ اپنا رہے ہیں اور ان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔‘‘ ٹرمپ کے مطابق ایران کی معاشی صورتحال انتہائی خراب ہے اور اس کے پاس اپنے فوجیوں کو تنخواہ دینے کے بھی پیسے نہیں ہیں۔ امریکی بحری ناکہ بندی نے تہران کی معیشت پر دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کو لے کر امریکہ، ایران اور عمان کے درمیان ایک معاہدہ تجویز کیا گیا تھا۔ حالانکہ نئی شرائط کی وجہ سے یہ معاملہ تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محمد باقر ذوالقدر نے ہفتہ کو مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ جنگ کو مکمل طور سے ختم کرے، بحری ناکہ بندی ہٹائے اور فوج واپس بلا لے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پابندیاں ہٹانے، منجمد اثاثوں کو بحال کرنے اور جنگی معاوضے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے ایران کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائی بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ایران کے ذریعہ عائد کی گئی پابندیوں کو خارج کر دیا ہے، جس میں کمرشیل جہازوں پر ٹول لگانے کی کوئی بھی کوشش شامل ہے۔ ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق اگر ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت پوری طرح بحال کر دیتا ہے تو ٹرمپ نئے جوہری معاہدے کے بغیر بھی پیچھے ہٹنے کو تیار ہو سکتے ہیں۔ یہ امریکی نقطۂ نظر میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔
قابل غور بات یہ ہے کہ جوہری مسئلہ مہینوں سے واشنگٹن کے مطالبات کے مرکز میں رہا ہے، لیکن تہران کے جوہری پروگرام پر بات چیت مشکل ثابت ہوئی ہے۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ جوہری ٹھکانوں کے برباد ہونے کے بعد ایران کے لیے اپنی جوہری صلاحیتوں کو دوبارہ بحال کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔ اس کے علاوہ امریکہ یہ بھی مانتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں کسی بھی خفیہ کوشش کا پتہ لگا لیں گی۔