مریضوں کے نام پر جعل سازی، آیوشمان اسکیم سے 2359 اسپتال باہر، 1200 پر پابندی
’آیوشمان بھارت یوجنا‘ کے نام پر بڑی جعل سازی کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد 2359 اسپتالوں کو اس اسکیم سے باہر نکال دیا گیا ہے اور 1200 اسپتالوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ممکن ہے کہ جس اسپتال میں آپ اپنا کارڈ لے کر جانا چاہتے ہوں، وہ اسپتال اب آیوشمان اسکیم کا حصہ نہ ہو۔ دراصل مرکزی حکومت نے ’آیوشمان بھارت- پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا‘ (اے بی۔ پی ایم جے اے وائی) میں بدعنوانی میں ملوث اسپتالوں پر اب تک کی سب سے بڑی کارروائی کی ہے۔ اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور فرضی بلنگ کے الزام میں ملک کے 2359 اسپتالوں کو اسکیم سے باہر (ڈی ایمپینل) کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 1200 دیگر اسپتالوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے 7 اگست کو لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعہ پوری کارروائی کی اطلاع دی۔ حکومت کے ان اقدامات کا اثر عوام پر پڑے گا، جو اسپتال بلیک لسٹ یا معطل ہو چکے ہیں، ان اسپتالوں میں اب آیوشمان کارڈ کے ذریعہ مفت علاج نہیں ہوسکے گا۔ اگر آپ کسی پرائیویٹ یا سرکاری اسپتال میں داخل ہونے جا رہے ہیں تو پہلے پتہ کرلیں کہ وہ اسپتال اب آیوشمان اسکیم کے تحت رجسٹرڈ ہے یا نہیں۔ حکومت نے صاف کہہ دیا ہے کہ جعل سازی کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ اب تک ایسے اسپتالوں پر کل 328.49 کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا جا چکا ہے اور 29 معاملوں میں ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی ہے۔ حکومت نے اتنی بڑی تعداد میں اسپتالوں کی چوری ’اے آئی‘ اور مشین لرننگ کی مدد سے پکڑی ہے۔
نیشنل ہیلتھ اتھارٹی (این ایچ اے) نے جعل سازی روکنے کے لیے مضبوط سسٹم تیار کیا ہے۔ جیسے ہی کوئی اسپتال فرضی کلیم، ایک ہی مریض کے نام پر دوبارہ بل، شناخت کا غلط استعمال یا بغیر ضرورت کے میڈیکل جانچ کا بل پورٹل پر ڈالتا ہے، تو سسٹم 24 گھنٹے کے اندر الرٹ بھیج دیتا ہے۔ اس تکنیک کی مدد سے ادائیگی ہونے سے پہلے ہی فرضی دعوے کی جانچ ہو جاتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 31 جولائی 2026 تک اس ہائی ٹیک سسٹم نے 676.14 کروڑ روپے کی سرکاری رقم کی حفاظت کی ہے۔ بدعنوانی کے خلاف اس بڑی کارروائی کے باوجود ’آیوشمان بھارت اسکیم‘ کی توسیع جاری ہے۔ مالی سال 2025-26 کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اس دوران 3.75 کروڑ نئے آیوشمان کارڈ بنائے گئے۔ وہیں 2.74 کروڑ مریضوں کے اسپتال میں داخل ہونے کی منظوری دی گئی۔
مرکزی حکومت نے علاج کے خرچ کے لیے ریاستوں کو 8438.27 کروڑ روپے کی رقم بھی جاری کی ہے۔ اس میں اتر پردیش سب سے آگے ہے۔ جہاں 30.6 لاکھ مریضوں کا علاج ہوا اور ریاست کو 1047.53 کروڑ روپے کا مرکزی فنڈ ملا۔ ’آیوشمان بھارت یوجنا‘ کے تحت ایک غریب کنبے کو ہر سال 5 لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت ملتی ہے۔ اس میں 1900 سے زیادہ بیماریوں کا علاج اور آپریشن کا کور شامل ہے۔ 8 اگست 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اب بھی 38437 اسپتال آیوشمان اسکیم سے جڑے ہوئے ہیں، جس میں 20363 سرکاری اور 18074 پرائیویٹ اسپتال شامل ہیں۔ ایسی صورتحال میں علاج کی پریشانی نہیں ہے۔ بس ضرورت ہے کہ آپ اسپتال جانے سے قبل ’ نیشنل ہیلتھ اتھارٹی‘ کے پورٹل پر جا کر معلومات حاصل کرلیں، تاکہ دشواریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے۔