بے گناہوں کے قتل کی اجازت کوئی مذہب نہیں دیتا: عمر عبداللہ
سری نگر، 4 اگست (یواین آئی) جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو کہا کہ کوئی بھی مذہب بے گناہ لوگوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا اور ایسے واقعات کو روکنا اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا سکیورٹی ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے۔
جنوبی کشمیر میں گزشتہ 10 دنوں کے دوران دو دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں۔ 22 جولائی کو امرناتھ یاترا کی سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی کو اننت ناگ کے لال چوک کے قریب دہشت گردوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے نو دن بعد، 31 جولائی کو ضلع کولگام کے کِلم علاقے میں مشتبہ دہشت گردوں نے چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والے دو غیر مقامی مزدوروں پر فائرنگ کر دی، جس میں ایک مزدور موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جبکہ دوسرے نے اگلے روز دورانِ علاج دم توڑ دیا۔
عمر عبداللہ نے سری نگر میں ایک گولف مقابلے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان ہلاکتوں پر انہیں گہرا دکھ ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔
انہوں نے کہاکہ "جن لوگوں کی جان گئی، یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنانے کا کسی بھی صورت میں کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ "اس طرح بے گناہ لوگوں کے قتل کی اجازت کوئی مذہب نہیں دیتا۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے اور اس کے خلاف جتنے بھی الفاظ کہے جائیں، وہ کم ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں جن سکیورٹی ایجنسیوں پر امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری عائد ہے، ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس طرح کے حملوں کو روکیں اور لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔