Jadid Khabar

پتنجلی کے آٹے میں حد سے زیادہ کیڑے مار دوا، واپسی کے حکم کے بعد کمپنی کے شیئرز میں بڑی گراوٹ

Thumb

 
نئی دہلی: یوگا گرو بابا رام دیو سے وابستہ کمپنی پتنجلی فوڈز کو اپنے گیہوں کے آٹے کے ایک مخصوص بیچ کو بازار سے واپس منگانے کا حکم دیا گیا ہے۔ کیرالہ کے فوڈ سیفٹی حکام کی جانچ میں اس بیچ میں کلورپائریفوس نامی کیڑے مار دوا کی مقدار مقررہ قانونی حد سے زیادہ پائی گئی، جس کے بعد کمپنی کے شیئرز میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی اور اسٹاک 52 ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔
کمپنی نے 24 جولائی کو اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی اطلاع میں بتایا کہ فوڈ سیفٹی حکام نے گیہوں کے آٹے کے ایک بیچ میں کیڑے مار دوا کے باقیات کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی ہے۔ اس کے بعد متعلقہ بیچ کو مارکیٹ سے واپس منگانے کی ہدایت جاری کی گئی۔
کمپنی کے مطابق، کیرالہ کے ضلع کوٹایم میں اسسٹنٹ کمشنر، فوڈ سیفٹی کے دفتر نے 20 جولائی کو یہ حکم جاری کیا تھا، جو 24 جولائی کو کمپنی کو موصول ہوا۔ پتنجلی فوڈز نے وضاحت کی ہے کہ یہ کارروائی صرف ایک مخصوص بیچ تک محدود ہے اور کمپنی کے دیگر کسی بھی پروڈکٹ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔
ماہرین کے مطابق کلورپائریفوس ایک آرگینو فاسفیٹ قسم کی کیڑے مار دوا ہے، جسے فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں پر قابو پانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم اگر خوراک میں اس کی مقدار قانونی حد سے زیادہ ہو تو یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے زیادہ استعمال سے اعصابی نظام متاثر ہونے، چکر آنے، سر درد، متلی اور معدے سے متعلق دیگر مسائل پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی اور پیر کے روز پتنجلی فوڈز کے شیئرز میں نمایاں فروخت دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : بابا رام دیو کی ’پتنجلی‘ کو دہلی ہائی کورٹ سے بڑا جھٹکا، ڈابر چیون پراش کے خلاف اشتہار چلانے پر لگی روک
کمپنی کا شیئر، جو اپنے بلند ترین درجے پر 552 روپے تک پہنچا تھا، گر کر تقریباً 344 روپے پر آ گیا۔ اس طرح اسٹاک اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً 37.74 فیصد نیچے آ چکا ہے۔ کمپنی کا 52 ہفتوں کا کم ترین سطح 328.20 روپے ہے اور موجودہ قیمت اس کے بہت قریب پہنچ گئی ہے، جس سے بازار میں سرمایہ کاروں کی بے چینی کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
اگرچہ کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مسئلہ صرف ایک مخصوص بیچ تک محدود ہے، تاہم فوڈ سیفٹی سے متعلق اس واقعے نے صارفین اور سرمایہ کاروں دونوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کمپنی اس معاملے میں آئندہ کیا اقدامات کرتی ہے اور صارفین کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کس طرح کی حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔