Jadid Khabar

جے کے ایس ایس بی پیپر لیک لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے دور میں ہوا تھا: عمر عبداللہ

Thumb

سری نگر، 23 جولائی (یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو مرکزی وزیر جے پی نڈا پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے جموں و کشمیر سروسیز سلیکشن بورڈ (جے کے ایس ایس بی) کے پیپر لیک معاملے کو غلط انداز میں پیش کیا اور یاد دلایا کہ یہ بھرتی گھوٹالہ 2022 میں لیفٹیننٹ گورنر کی زیر قیادت انتظامیہ کے دور میں پیش آیا تھا، جس کا نیشنل کانفرنس-کانگریس حکومت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔
عمر عبداللہ نے پیپر لیک کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کے نتائج پر بھی سوال اٹھایا اور جے پی نڈا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی اگلی پریس کانفرنس میں اس کمیٹی کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کریں۔
بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے پی نڈا نے امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کے جاری احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ جے کے ایس ایس بی پیپر لیک اس وقت ہوا جب کانگریس اور نیشنل کانفرنس اقتدار میں تھیں۔
اس پر عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پر لکھا:"جے پی نڈا جی، آپ جموں و کشمیر میں ایس ایس بی پیپر لیک کے بارے میں درست کہہ رہے ہیں، لیکن آپ نے اس کی تاریخ غلط بتائی ہے۔ یہ واقعہ 2022 میں پیش آیا تھا۔ اس وقت نہ نیشنل کانفرنس کی حکومت تھی اور نہ ہی کانگریس کی بلکہ لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت میں انتظامیہ تھی۔ تاہم اس ناکامی کی یاد دہانی کرانے پر آپ کا شکریہ۔ اس معاملے پر جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے ریمارکس اور احکامات بھی موجود ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا:"ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی اور اس کی رپورٹ کا کیا ہوا۔ شاید آپ اپنی اگلی پریس کانفرنس میں اس بارے میں بھی عوام کو آگاہ کریں۔"
نیشنل کانفرنس کے چیف ترجمان اور رکن اسمبلی تنویر صادق نے بھی جے پی نڈا پر حقائق کو مسخ کرنے کا الزام لگایا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا:"یہ حیرت کی بات ہے کہ بی جے پی کے وزیر جے پی نڈا صاحب نے ایسا دعویٰ کیا جو حقائق کے بالکل برعکس ہے۔"