نئی دہلی، 21 جولائی (یو این آئی) عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران مبینہ لاٹھی چارج اور اس کے بعد طلبہ پر درج مقدمات کے تعلق سے منگل کو مرکزی سرکار پر شدید حملہ بولا۔
مسٹر کیجریوال نے آج یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ پرامن مظاہرہ کر رہے طلبہ پر پولیس نے حد سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آئی ویڈیو میں طالب علم اور طالبات ہاتھ جوڑ کر التجا کرتے دکھائی دے رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی طلبہ کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں اور کچھ طلبہ کے اہل خانہ کو ان کے بارے میں معلومات نہیں مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی متاثرہ طلبہ اور ان کے خاندانوں کو قانونی اور میڈیکل امداد فراہم کرائے گی۔ اس کے لیے 8588833548 ہیلپ لائن نمبر جاری کرتے ہوئے طلبہ سے ضرورت پڑنے پر رابطہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
مسٹر کیجریوال نے کہا کہ عام آدمی پارٹی نے طلبہ کی مدد کے لیے قانونی اور میڈیکل ٹیم تشکیل دی ہے۔ جن طلبہ کے خلاف مقدمات درج ہوئے ہیں، جنہیں گرفتار کیا گیا ہے یا جنہیں کسی بھی قسم کی امداد کی ضرورت ہے، وہ ہیلپ لائن نمبر پر پیغام بھیج سکتے ہیں۔ انہوں نے بھروسہ دلایا کہ پارٹی ہر ممکن امداد فراہم کرائے گی۔ مرکزی سرکار کو نشانہ بناتے ہوئے مسٹر کیجریوال نے کہا کہ طلبہ کا اہم مطالبہ صرف پیپر لیک کے واقعات کو روکنا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرکار اس معاملے پر جواب دینے کے بجائے مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مظاہرے کے دوران پولیس کی کارروائی سے جڑی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں، جن کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔
مسٹر کیجریوال نے بتایا کہ مظاہرے کے وقت وہ پنجاب میں تھے، لیکن ان کے خاندان کے افراد اور پارٹی کے کئی لیڈر جنتر منتر پر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی طلبہ کے ساتھ کھڑی رہے گی اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے قانونی لڑائی لڑے گی۔