Jadid Khabar

طلبہ کے خلاف پولیس کی کارروائی شرمناک، وزیر اعظم مودی خود مل کر سنیں ان کی بات: پرینکا گاندھی

Thumb

کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے دہلی میں احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس کی کارروائی کو انتہائی شرمناک قرار دیا ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں، بلکہ اپنے مستقبل کے حوالے سے سڑکوں پر اترے ہیں۔ حکومت کو طاقت کا استعمال کرنے کے بجائے ان کے مسائل سن کر ان کا حل نکالنا چاہیے۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان طویل عرصے سے مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی والدین بچوں کی پڑھائی اور کوچنگ کے لیے قرض تک لیتے ہیں، لیکن امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں اور مبینہ پیپر لیک جیسے واقعات سے ان کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ خود طلبہ سے ملاقات کریں اور ان کی بات سنیں۔
کانگریس کی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ طلبہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ امتحانی نظام میں مسلسل سامنے آنے والی خامیوں کی ذمہ داری متعلقہ وزارت کی ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ پہلے بڑی انتظامی ناکامیوں پر وزراء اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیتے تھے، لیکن اب ایسا دیکھنے کو نہیں ملتا۔ انہوں نے تعلیمی نظام میں وسیع تر اصلاحات کا بھی مطالبہ کیا۔
پرینکا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ ان کی پارٹی طویل عرصے سے امتحانی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے۔ انہوں نے اتر پردیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پیپر لیک کے واقعات میں صرف نچلے درجے کے افسران کے خلاف کارروائی کی گئی، جبکہ بڑے ذمہ دار لوگوں کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ ملک کا نوجوان آج اپنے مستقبل کو لے کر مایوس اور مشتعل ہے۔ محنت کرنے کے باوجود اگر امتحانی نظام منصفانہ نہیں ہوگا تو طلبہ کا مستقبل محفوظ نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت ’نوجوان مخالف، غریب مخالف اور کسان مخالف‘ پالیسیاں اپنا رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے حکومت سے طلبہ کی آواز سننے، ذمہ داری طے کرنے اور تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔