جنگی طیارہ ’رافیل‘ کو ملی مزید مضبوطی، لیزر گائیڈیڈ راکیٹ جڑنے کے بعد آسمان میں تباہ ہوں گے ڈرون
فرانس نے اپنے جدید رافیل جنگی طیارے میں 68 ملی میٹر لیزر گائیڈیڈ راکٹ کو شامل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ کم خرچ والے اس اسلحہ کو ڈرون کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب بغیر پائلٹ فضائی خطرات میں تیزی سے اضافے کے باعث فضائی افواج ہوا سے ہوا میں مار کرنے والی مہنگی میزائلوں کے سستے متبادل تلاش کر رہی ہیں۔
اس پروگرام کو ’ایل اے ڈی اے سی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسے فرانسیسی فضائی اور خلائی فوج کو ڈرون کے خلاف ایک سستی اور مؤثر صلاحیت فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ فرانس کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف آرمامنٹ (ڈی جی اے) کی جانب سے فرانسیسی میڈیا کو جاری بیان کے مطابق اس انضمام کا کام فرانسیسی فضائی و خلائی فوج کے ’سینٹر ڈی ایکسپرٹیز ایریئن ملیتیر‘ (کریم) کے تعاون سے انجام دیا گیا۔ اس میں داسو ایوی ایشن اور تھیلس نے بھی تعاون کیا۔ فی الحال اس کی قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
ڈی جی اے نے 7 جولائی 2026 کو رافیل جنگی طیارے پر 68 ملی میٹر لیزر گائیڈیڈ راکٹ کے انضمام کی جانچ مہم کامیابی سے مکمل کر لی۔ معاہدے کے بعد یہ کام 8 ماہ سے بھی کم مدت میں مکمل کیا گیا۔ دی وار زون (ٹی ڈبلیو زیڈ) کی رپورٹ کے مطابق ڈی جی اے نے کہا کہ لانچر پوڈز، لیزر گائیڈیڈ راکٹ اور ایل اے ڈی اے سی موڈ والے ٹیلوس لیزر ڈیزگنیشن پوڈز کی پہلی کھیپ جولائی کے آخر سے فرانسیسی فضائی و خلائی فوج کو ملنی شروع ہو جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 میں فرانسیسی فضائی و خلائی فوج کے سربراہ جنرل جیروم بیلینجر نے ایران کے شاہد-136 جیسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے یکطرفہ حملہ آور ڈرون کا مقابلہ کرنے کے لیے رافیل اور میراج 2000-ڈی پر لیزر گائیڈیڈ راکٹ نصب کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایسا اس لیے بھی ضروری تھا کیونکہ ایک فرانسیسی ایم آئی سی اے میزائل کی قیمت تقریباً 20 لاکھ ڈالر ہے، جبکہ شاہد ڈرون کی قیمت تقریباً 50 ہزار ڈالر ہے۔ رافیل کی اس جدید کاری کا ہندوستان کو براہ راست فائدہ ملے گا۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے 2016 میں فرانس کے ساتھ 36 رافیل طیاروں کا معاہدہ کیا تھا۔ یہ تمام طیارے ہندوستانی فضائیہ کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ ہندوستانی فضائیہ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے حکومت نے فرانس کو مزید 114 رافیل جنگی طیارے خریدنے کی درخواست بھیجی ہے۔ میک ان انڈیا کے تحت ان میں سے بیشتر طیارے ہندوستان میں ہی تیار کیے جائیں گے۔ ایسے میں ان جنگی طیاروں کی جدید کاری سے ہندوستان کو بڑا فائدہ حاصل ہوگا۔