Jadid Khabar

انڈین ریلویز: 4 سالوں کے دوران ’اے سی کوچز‘ میں خوب ہوئی ’چوری‘، 1.27 کروڑ تولیہ، چادر اور دیگر سامان غائب

Thumb

 
انڈین ریلویز کے اے سی کوچ میں آپ جب بھی سفر کرتے ہیں، تو ’لینن بیڈ رول‘ (سونے میں استعمال ہونے والے سامان) کا ایک پیک فراہم کیا جاتا ہے۔ اس پیک میں 2 چادر، ایک تکیہ کا غلاف اور ایک تولیہ (ہاتھ اور منھ پونچھنے کے لیے) موجود ہوتا ہے۔ کمبل اور تکیہ الگ سے دیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سامانوں میں سے چند ایک سامان کئی مسافر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ ایک طرح کی ’چوری‘ ہے، جس سے انڈین ریلویز کو مسلسل نقصان کا سامنا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہزار مسافروں میں سے ایک مسافر کم از کم ایک چیز اپنے ساتھ ضرور لے جاتا ہے۔
انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنوری 2022 (جب کووڈ-19 وبا کے بعد بیڈ رول کی خدمات دوبارہ شروع کی گئیں) سے مئی 2026 تک کم از کم 1.27 کروڑ سامان چوری ہونے کی اطلاع ملی ہے، اور بیشتر چوری مسافروں نے کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2022 سے 2025 کے درمیان اس طرح کی چوریوں میں 56 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ انکشاف اخبار کی جانب سے انڈین ریلویز کے تمام 69 ڈویژنوں میں ڈالی گئی آر ٹی آئی درخواستوں کے جواب سے ہوا ہے۔ 18 میں سے 16 ریلوے زون کے 54 ڈویژنوں سے جوابات موصول ہوئے، جس نے حیران کر دیا ہے۔
یوں تو انڈین ریلویز میں روزانہ تقریباً 10 لاکھ بیڈ رول اے سی کوچز میں سفر کرنے والے مسافروں کو فراہم کیے جاتے ہیں، اور اس سے موازنہ کیا جائے تو چوری ہونے والے سامان کی تعداد بہت معمولی معلوم ہوتی ہے۔ پھر بھی اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ چوریاں مسافروں کے رویے، ان کی ذمہ داری کے احساس اور مشترکہ وسائل کے تئیں ان کے طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہیں۔ آر ٹی آئی سے حاصل اعداد و شمار کے مطابق (جن کا حوالہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے دیا ہے) ان چوریوں کے باعث 4 سالوں کے دوران بیڈ رول کے ٹھیکیداروں کو تقریباً 104.51 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ریلوے کے ایک افسر نے اس معاملے کو ’سنگین تشویش‘ کا موضوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’لینن کی چوری روکنے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘‘
آر ٹی آئی کے جواب سے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، ان سے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے مسافروں نے خاص طور سے ہاتھ پونچھنے کے لیے دیے جانے والے تولیہ کو اپنی پسند بنا لیا ہے۔ یہ آسانی سے بیگ میں رکھا جا سکتا ہے، اس لیے سب سے زیادہ چوری ہونے والی چیز ثابت ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق  4 سالوں کے دوران 46.54 لاکھ تولیے کی چوری ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں 41.13 لاکھ چادریں، 23.59 لاکھ تکیے کے غلاف اور 12.95 لاکھ کمبلوں کی بھی چوری ہوئی ہے۔ تکیہ سب سے کم چوری ہونے والی چیز ثابت ہوئی ہے۔ دراصل انہیں بیگ میں رکھنے سے بیگ بھاری اور بھرا ہوا نظر آتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 4 سالوں کے دوران صرف 2.76 لاکھ تکیے کی چوری ہوئی ہے۔
’دی انڈین ایکسپریس‘ نے آر ٹی آئی کے جوابات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ بیکانیر ڈویژن میں 25.76 لاکھ لینن کی اشیا چوری ہوئی، جبکہ رانچی میں یہ تعداد 9.31 لاکھ رہی۔ اس کے بعد دہلی میں 8.21 لاکھ، ممبئی میں 8.17 لاکھ، جودھپور میں 8.09 لاکھ اور احمد آباد میں 6.94 لاکھ اشیاء چوری ہونے کی اطلاع ملی۔
ریلوے کے ایک ترجمان نے مسافروں کی جانب سے لینن بیڈ رول کی مسلسل چوری سے وابستہ چیلنجوں پر کہا کہ کوچوں میں لینن کا حساب رکھنے کی ذمہ داری اس ایجنسی پر ہوتی ہے جسے لینن کی تقسیم کا کام سونپا گیا ہوتا ہے۔ اگر لینن کی کمی ہو جائے تو اس کی رقم کی وصولی کا بوجھ بھی اسی ایجنسی پر آتا ہے۔ افسر نے کہا کہ ’’لینن کی چوری کے باعث اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اضافی لینن سیٹوں کی ضرورت پڑتی ہے۔‘‘