رام مندر چڑھاوا چوری معاملے میں پریس کانفرنس کر کے صورتحال واضح کریں مودی: کانگریس
نئی دہلی، 11 جولائی (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوا چوری معاملے کی وجہ سے کروڑوں عقیدت مندوں کے عقیدے کو گہرا صدمہ پہنچا ہے، اس لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو پریس کانفرنس کر کے اس معاملے میں ملک کے سامنے صورتحال واضح کرنی چاہیے۔
کانگریس کے سینئر رہنما ابھشیک منو سنگھوی، دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو اور پردیش کانگریس کے جنرل سکریٹری انل بھاردواج نے ہفتہ کو یہاں دہلی پردیش کانگریس کے دفتر راجیو بھون میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ معاملے میں منصفانہ کارروائی کے بجائے پردہ پوشی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر ایسے معاملات میں ایف آئی آر درج ہوتی ہے لیکن یہاں براہِ راست ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ایس آئی ٹی تشکیل دیے جانے سے پہلے ٹرسٹ کے اہم عہدیداروں کے خلاف نہ تو ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ ہی انہیں جانچ کے دائرے میں لایا گیا، جبکہ کارروائی صرف نچلے سطح کے لوگوں تک ہی محدود رکھی گئی ہے۔
پارٹی رہنماؤں نے رام مندر ٹرسٹ پر بے تحاشہ اخراجات کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ من مانے طریقے سے چھوٹے چھوٹے پروگراموں پر پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 22 جنوری 2024 کے پروگرام پر 113 کروڑ روپے اور ایک دوسرے پروگرام پر 10 کروڑ روپے سے زیادہ کا خرچ دکھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رام بھکتوں کے عطیہ کا غلط استعمال کیا گیا ہے، جس سے ٹرسٹ کے وقار اور کروڑوں عقیدت مندوں کے بھروسے کو ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی جامع اور منصفانہ جانچ کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی بہت اچھے مقرر ہیں لیکن وہ اسی معاملے میں بولتے ہیں جس پر وہ چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چڑھاوا چوری کا معاملہ بہت سنگین ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ مسٹر مودی نے اب تک اس معاملے پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم پریس کانفرنس کر کے ملک کے سامنے صورتحال واضح کریں۔ پارٹی نے پورے معاملے کی عدالتی جانچ سپریم کورٹ کے سینئر جج سے کرانے، مندر ٹرسٹ کو تحلیل کرنے، مندر میں ہوئے ہر لین دین کا فورینسک آڈٹ کرانے اور قصورواروں کے خلاف فوری کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ان سے مناسب پوچھ گچھ کیے بغیر براہِ راست جیل بھیج دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تفصیلی پوچھ گچھ ہوتی تو معاملے میں بڑے لوگوں کے نام سامنے آ سکتے تھے۔